Musallah Jibreel

شادی شدہ بیٹی اور پردیس میں گیا بیٹا

 
شادی شدہ بیٹی اور پردیس میں گیا بیٹا دونوں زندگی کے ایسے مرحلے میں ہوتے ہیں جہاں بظاہر وہ بڑے ہو چکے ہوتے ہیں، ذمہ داریاں سنبھال لیتے ہیں، مگر اندر سے وہ اب بھی اپنے گھر کے ساتھ جڑے ہوتے ہیں، ان کے دل میں ایک ایسی نرمی اور حساسیت ہوتی ہے جو ہر عام انسان کو نظر نہیں آتی، جب گھر سے کوئی غیر متوقع کال آتی ہے تو دل ایک لمحے کے لیے رک سا جاتا ہے، ذہن فوراً ہر ممکن خیال کی طرف چلا جاتا ہے، کیونکہ فاصلہ صرف جسم کا نہیں ہوتا بلکہ احساس کا بھی ہوتا ہے، شادی شدہ بیٹی اپنے نئے گھر میں ہوتے ہوئے بھی اکثر اپنے والدین کی فکر میں رہتی ہے، اسے ہر وقت یہ خیال ہوتا ہے کہ گھر والے کیسے ہیں، سب ٹھیک تو ہے یا نہیں، اور اسی طرح پردیس میں بیٹھا بیٹا بھی ہر وقت اپنے گھر کی خبر کا منتظر رہتا ہے، کیونکہ دوری انسان کو زیادہ حساس بنا دیتی ہے، یہ دونوں اپنی اپنی جگہ مضبوط نظر آتے ہیں مگر حقیقت میں ان کے دل بہت نرم ہوتے ہیں، وہ اپنے جذبات کو ظاہر نہیں کرتے مگر ہر لمحہ اندر ہی اندر اپنے گھر کے ساتھ جڑے رہتے ہیں، ان کے لیے ایک عام سی کال بھی بہت بڑی کیفیت لے آتی ہے، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ گھر سے آنے والی ہر آواز ایک معنی رکھتی ہے، ہر لفظ کے پیچھے ایک احساس چھپا ہوتا ہے، یہ وہ رشتے ہیں جو وقت اور فاصلے سے کمزور نہیں ہوتے بلکہ اور زیادہ گہرے ہو جاتے ہیں، مگر اس گہرائی کے ساتھ ایک خاموش خوف بھی جڑا ہوتا ہے، کہ کہیں کچھ غلط نہ ہو جائے، کہیں کوئی بری خبر نہ آ جائے، اسی لیے ان کے دل ہر غیر متوقع آواز پر کانپ جاتے ہیں، لیکن پھر بھی وہ اپنے گھر والوں سے جڑے رہتے ہیں، دعا کرتے رہتے ہیں، اور ہر حال میں اپنے پیاروں کی خیریت چاہتے ہیں، کیونکہ ان کے لیے سب سے بڑی خوشی یہی ہوتی ہے کہ ان کا گھر محفوظ اور خوش رہے، چاہے وہ خود کتنی ہی دور کیوں نہ ہوں یا کتنی ہی مصروف کیوں نہ ہوں۔
🖤

Comments

Post a Comment