Skip to main content
Editor's Choice Latest article published - explore new stories from ASIM MYSTIC.

شادی شدہ بیٹی اور پردیس میں گیا بیٹا

 
شادی شدہ بیٹی اور پردیس میں گیا بیٹا دونوں زندگی کے ایسے مرحلے میں ہوتے ہیں جہاں بظاہر وہ بڑے ہو چکے ہوتے ہیں، ذمہ داریاں سنبھال لیتے ہیں، مگر اندر سے وہ اب بھی اپنے گھر کے ساتھ جڑے ہوتے ہیں، ان کے دل میں ایک ایسی نرمی اور حساسیت ہوتی ہے جو ہر عام انسان کو نظر نہیں آتی، جب گھر سے کوئی غیر متوقع کال آتی ہے تو دل ایک لمحے کے لیے رک سا جاتا ہے، ذہن فوراً ہر ممکن خیال کی طرف چلا جاتا ہے، کیونکہ فاصلہ صرف جسم کا نہیں ہوتا بلکہ احساس کا بھی ہوتا ہے، شادی شدہ بیٹی اپنے نئے گھر میں ہوتے ہوئے بھی اکثر اپنے والدین کی فکر میں رہتی ہے، اسے ہر وقت یہ خیال ہوتا ہے کہ گھر والے کیسے ہیں، سب ٹھیک تو ہے یا نہیں، اور اسی طرح پردیس میں بیٹھا بیٹا بھی ہر وقت اپنے گھر کی خبر کا منتظر رہتا ہے، کیونکہ دوری انسان کو زیادہ حساس بنا دیتی ہے، یہ دونوں اپنی اپنی جگہ مضبوط نظر آتے ہیں مگر حقیقت میں ان کے دل بہت نرم ہوتے ہیں، وہ اپنے جذبات کو ظاہر نہیں کرتے مگر ہر لمحہ اندر ہی اندر اپنے گھر کے ساتھ جڑے رہتے ہیں، ان کے لیے ایک عام سی کال بھی بہت بڑی کیفیت لے آتی ہے، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ گھر سے آنے والی ہر آواز ایک معنی رکھتی ہے، ہر لفظ کے پیچھے ایک احساس چھپا ہوتا ہے، یہ وہ رشتے ہیں جو وقت اور فاصلے سے کمزور نہیں ہوتے بلکہ اور زیادہ گہرے ہو جاتے ہیں، مگر اس گہرائی کے ساتھ ایک خاموش خوف بھی جڑا ہوتا ہے، کہ کہیں کچھ غلط نہ ہو جائے، کہیں کوئی بری خبر نہ آ جائے، اسی لیے ان کے دل ہر غیر متوقع آواز پر کانپ جاتے ہیں، لیکن پھر بھی وہ اپنے گھر والوں سے جڑے رہتے ہیں، دعا کرتے رہتے ہیں، اور ہر حال میں اپنے پیاروں کی خیریت چاہتے ہیں، کیونکہ ان کے لیے سب سے بڑی خوشی یہی ہوتی ہے کہ ان کا گھر محفوظ اور خوش رہے، چاہے وہ خود کتنی ہی دور کیوں نہ ہوں یا کتنی ہی مصروف کیوں نہ ہوں۔
🖤

Comments

Post a Comment

Popular posts from this blog

What Will Smartphones Look Like in 2030? Future Technology Explained

🌌 The Smartphone Is Not Disappearing… It Is Evolving Into Something Else If you think today’s smartphone is advanced, 2030 might feel like stepping into a different reality. The device we currently hold in our hands — glass screen, apps, touch gestures — is only a temporary stage in technological evolution . Just like feature phones faded into smartphones, today’s smartphones are slowly preparing to transform into something far more intelligent, immersive, and almost invisible. By 2030, the idea of “opening an app” may feel outdated. Instead, your device will anticipate your needs before you even touch it. This is not science fiction anymore — it is a direction already being built inside research labs of companies like Apple, Samsung, Google, and neural tech startups. 🧠 Smartphones Will Become AI Companions, Not Just Devices In 2030, the smartphone will no longer behave like a tool. It will behave like a thinking assistant layered over reality . Imagine this: You wake up la...

چند سوالات

  چند سوالات بات بہت سادہ ہے ، تین چار چھوٹے چھوٹے سوالات ہیں، اپنے آپ سے پوچھئیے ، جواب مل جائے گا۔ کیا ہر جگہ، موقعہ اور تقریب کے حساب سے ڈریسنگ نہیں کی جاتی ؟گھر میں روزمرہ استعمال،دفتر کا رسمی ڈریس، کسی مذہبی تقریب جیسے میلاد میں شرکت، تعزیتی تقریب، شادی کے فنکشن اور کسی ہائی پروفائل کوریج والی تقریب می شرکت کے لئے الگ نوعیت کا لباس پہنا جاتا ہے یا پہنا جانا چاہیے ؟ کیا مرد ہوں یا خواتین، دونوں کو مناسب ، ساتر ، ڈیسنٹ لباس نہیں پہننا چاہیے؟یا کسی معروف شخصیت ، ٹی وی سیلبریٹی کو، پبلک تقریب میں نامناسب، فضول، ولگر لکنگ ڈریس پہننا چاہیے ؟ کیا ایسا کرنے پر وہ حرف تنقید سے بالاتر ہوگئی ، اسے تقدس حاصل ہے کہ وہ عورت کارڈ کی چھتری تلے موجود ہے ؟ کیا آج کے دور میں جب سوشل میڈیا انتہائی ایکٹو ہے، ہمارے سامنے کچھ غلط ہوتا تو ہم اس پر کمنٹ نہیں کرتے ؟ کیا ہم پبلک پوسٹ کر کے تنقید نہیں کرتے ؟کیا یہ خلاف معمول، غلط ، غیر فطری اور نامناسب ہے ؟ اس سب کچھ کو سامنے رکھتے ہوئے اینکر غریدہ فاروقی کے نہایت نامناسب، ناموزوں لباس پر تنقید بالکل درست، مناسب اور جائز ہے۔ غریدہ فاروقی ایک پبل...

Hijrah to Madinah — The Emotional Migration of Prophet Muhammad ﷺ and the Turning Point of Islam