Skip to main content

چند سوالات

Gharida Farooqi viral video, green dress controversy, and social media reaction explained.
 

چند سوالات
بات بہت سادہ ہے ، تین چار چھوٹے چھوٹے سوالات ہیں، اپنے آپ سے پوچھئیے ، جواب مل جائے گا۔
کیا ہر جگہ، موقعہ اور تقریب کے حساب سے ڈریسنگ نہیں کی جاتی ؟گھر میں روزمرہ استعمال،دفتر کا رسمی ڈریس، کسی مذہبی تقریب جیسے میلاد میں شرکت، تعزیتی تقریب، شادی کے فنکشن اور کسی ہائی پروفائل کوریج والی تقریب می شرکت کے لئے الگ نوعیت کا لباس پہنا جاتا ہے یا پہنا جانا چاہیے ؟ کیا مرد ہوں یا خواتین، دونوں کو مناسب ، ساتر ، ڈیسنٹ لباس نہیں پہننا چاہیے؟یا کسی معروف شخصیت ، ٹی وی سیلبریٹی کو، پبلک تقریب میں نامناسب، فضول، ولگر لکنگ ڈریس پہننا چاہیے ؟ کیا ایسا کرنے پر وہ حرف تنقید سے بالاتر ہوگئی ، اسے تقدس حاصل ہے کہ وہ عورت کارڈ کی چھتری تلے موجود ہے ؟
کیا آج کے دور میں جب سوشل میڈیا انتہائی ایکٹو ہے، ہمارے سامنے کچھ غلط ہوتا تو ہم اس پر کمنٹ نہیں کرتے ؟ کیا ہم پبلک پوسٹ کر کے تنقید نہیں کرتے ؟کیا یہ خلاف معمول، غلط ، غیر فطری اور نامناسب ہے ؟
اس سب کچھ کو سامنے رکھتے ہوئے اینکر غریدہ فاروقی کے نہایت نامناسب، ناموزوں لباس پر تنقید بالکل درست، مناسب اور جائز ہے۔
غریدہ فاروقی ایک پبلک پرسنالیٹی ہے،معروف ٹی وی اینکر، ہر روز کیمرےکے سامنے بیٹھ کر وہ پوری قوم کو بھاشن دیتی ہے، لوگوں کا محاسبہ کرتی ہے، ان کی نیت، اخلاق، کردار اور سیاسی وغیر سیاسی حرکات پر سوال اٹھاتی ہے، کچھ اچھا نہ لگنے پر وہ ان کے پرخچے اڑا دیتی ہے۔
وہی غریدہ فاروقی اگر امریکہ ایران مذاکرات جیسے ہائی پروفائل والے ایونٹ میں اگر اپنی فضول ڈریسنگ اور نان پروفیشنل رویے سے پوری قوم کوشرمندہ کرائے تو اس پر تنقید کیوں نہ کی جائے؟
میرے خیال میں تو ان لوگوں کو شرم آنی چاہیے جو غریدہ فاروقی کی غلط حرکت کا دفاع کر رہے ہیں؟
کیا جو لباس غریدہ نے پہنا ، وہ ہم لوگ اپنی بچیوں کو پہننے کی اجازت دے سکتےہیں؟ میں تو ہرگز نہیں دے سکتا، شائد یہ دفاع کرنے والے بھی نہ دیں۔ پھر یہ دفاع کیوں کر رہے ہیں؟ صرف سیاسی وابستگی کی بنا پر؟ صرف اس لئے کہ تحریک انصاف والے غریدہ کو تنقید کر رہے ہیں ؟ یہ تو عجیب وغریب بات ہے۔
یہ جینڈر ایشو ہے ہی نہیں۔ سوال یہ نہیں کہ کیا مرد عورت کو بتائے گا کہ اس کا لباس کیا ہو۔ سوال یہ بھی نہیں کہ غریدہ فاروقی کیا ہماری مرضی سے کپڑے پہنے۔ نہیں یہ سوالات ہی نہیں۔ ایک ہے غریدہ فاروقی یا کسی بھی خاتون یا مرد کی ذاتی زندگی ۔ اپنے گھر میں وہ جو مرضی کپڑے پہنیں، اپنی پرسنل لائف میں ان کے ملبوسات پر کوئی نظر نہیں رکھتا، ہم میں سے کوئی بات بھی نہیں کرے گا جب تک وہ انہیں خود پبلک نہیں کریں گی۔ تاہم پبلک لائف، پروفیشنل لائف میں اگر کچھ نامناسب ہوا ہے تو اس پر تنقید ہوگی۔ سو سمپل۔
اگر کوئی مرد ایسی کسی تقریب میں نامناسب لباس پہن کر آجائے یا وہ پبلک میں فضول حرکتیں کریں، وہ لوگوں کے سامنے اپنے پرائیویٹ پارٹس کو بار بار ٹچ کرے، مینرز کا خیال نہ رکھے تو اس پر بھی تنقید ہوگی، سخت تنقید۔ براہ کرم اس پر عورت کارڈ نہ کھیلیں، اسے فیمنزم کا ایشو بھی نہ بنائیں۔

Comments

Post a Comment

Popular posts from this blog

شادی شدہ بیٹی اور پردیس میں گیا بیٹا

  شادی شدہ بیٹی اور پردیس میں گیا بیٹا دونوں زندگی کے ایسے مرحلے میں ہوتے ہیں جہاں بظاہر وہ بڑے ہو چکے ہوتے ہیں، ذمہ داریاں سنبھال لیتے ہیں، مگر اندر سے وہ اب بھی اپنے گھر کے ساتھ جڑے ہوتے ہیں، ان کے دل میں ایک ایسی نرمی اور حساسیت ہوتی ہے جو ہر عام انسان کو نظر نہیں آتی، جب گھر سے کوئی غیر متوقع کال آتی ہے تو دل ایک لمحے کے لیے رک سا جاتا ہے، ذہن فوراً ہر ممکن خیال کی طرف چلا جاتا ہے، کیونکہ فاصلہ صرف جسم کا نہیں ہوتا بلکہ احساس کا بھی ہوتا ہے، شادی شدہ بیٹی اپنے نئے گھر میں ہوتے ہوئے بھی اکثر اپنے والدین کی فکر میں رہتی ہے، اسے ہر وقت یہ خیال ہوتا ہے کہ گھر والے کیسے ہیں، سب ٹھیک تو ہے یا نہیں، اور اسی طرح پردیس میں بیٹھا بیٹا بھی ہر وقت اپنے گھر کی خبر کا منتظر رہتا ہے، کیونکہ دوری انسان کو زیادہ حساس بنا دیتی ہے، یہ دونوں اپنی اپنی جگہ مضبوط نظر آتے ہیں مگر حقیقت میں ان کے دل بہت نرم ہوتے ہیں، وہ اپنے جذبات کو ظاہر نہیں کرتے مگر ہر لمحہ اندر ہی اندر اپنے گھر کے ساتھ جڑے رہتے ہیں، ان کے لیے ایک عام سی کال بھی بہت بڑی کیفیت لے آتی ہے، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ گھر سے آنے والی ہر آوا...

مومنا اقبال اور PML-N ایم پی اے کیس ایک تعلق، الزامات اور قانونی جنگ کی مکمل کہانی

کچھ کہانیاں صرف خبریں نہیں ہوتیں بلکہ وقت کے ساتھ ایک ایسے کیس میں بدل جاتی ہیں جہاں ہر فریق اپنے سچ کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے۔ پاکستانی اداکارہ مومنا اقبال اور پنجاب اسمبلی کے رکن ساقب چندھڑ (PML-N ایم پی اے) کا معاملہ اس وقت میڈیا اور سوشل میڈیا پر زیر بحث ہے۔ رپورٹس کے مطابق یہ معاملہ اچانک شروع نہیں ہوا بلکہ اس کی جڑیں مبینہ طور پر 2020–2021 کے دوران کے تعلقات سے جڑی ہوئی ہیں۔ دونوں کے درمیان قریبی رابطہ رہا، ذاتی گفتگو اور تعلقات کا ذکر سامنے آیا، اور بعد میں شادی سے متعلق بات چیت بھی رپورٹ کی گئی۔ وقت کے ساتھ یہی تعلق ایک بڑے تنازع میں تبدیل ہو گیا۔ مومنا اقبال کی جانب سے الزامات میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ انہیں مسلسل آن لائن ہراسانی کا سامنا رہا، واٹس ایپ اور کالز کے ذریعے دھمکیاں دی گئیں، ذہنی دباؤ اور بلیک میلنگ کی کوشش کی گئی، اور ان کی فیملی کو بھی مبینہ طور پر نشانہ بنایا گیا۔ ان کے مطابق یہ صورتحال اس وقت زیادہ سنگین ہوئی جب تعلق ختم ہوا اور شادی سے انکار کیا گیا۔ اسی بنیاد پر انہوں نے معاملہ پولیس اور NCCIA تک پہنچایا۔ دوسری جانب ملزم فریق کا مؤقف ہے کہ دونوں کے درمیان طویل عر...