میرا مزاج شروع سے بہت دوستانہ اور باتونی رہا ہے، جبکہ وہ فطرتاً خاموش طبع ہیں۔ میں اکثر ان سے بات کرنے کی کوشش کرتی رہی کیونکہ میں دن بھر گھر میں اکیلی اور بور محسوس کرتی تھی، مگر ان کا جواب اکثر یہی ہوتا تھا کہ “میرے پاس بات کرنے کو کچھ نہیں، تم خود ہی بات کر لو۔” وقت کے ساتھ میرے دل میں ان کے لیے محبت اور جذبات کم ہوتے گئے، اور کئی بار دل چاہا کہ سب چھوڑ کر اپنے والدین کے گھر چلی جاؤں۔ آخرکار تقریباً ایک سال پہلے میں وہاں آ گئی۔
اسی دوران میں نے فیس بک پر ایک جعلی اکاؤنٹ بنایا تاکہ کسی سے بات کر کے اپنا دل بہلا سکوں۔ وہاں میری ایک ایسے شخص سے بات شروع ہوئی جو میری ہی عمر کے قریب تھا۔ اس نے بتایا کہ وہ بھی اپنی ازدواجی زندگی میں خوش نہیں اور اپنی بیوی کی طرف سے نظرانداز محسوس کرتا ہے، اسی لیے وہ بھی ایک بہتر ساتھی کی تلاش میں ہے۔
دیکھتے ہی دیکھتے ہماری بات چیت بڑھ گئی اور اب تقریباً چھ ماہ سے ہمارا رابطہ ہے۔ ہم آج تک کبھی نہیں ملے، صرف واٹس ایپ کالز، ویڈیو کالز اور تصاویر کے ذریعے ایک دوسرے کو جانتے ہیں۔ وہ چاہتا ہے کہ میں اپنے شوہر سے علیحدگی اختیار کر لوں، اور وہ بھی اپنی بیوی کو طلاق دے دے۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ پہلے ہی اپنے گھر والوں، خاص طور پر بہنوں، کو دوسری شادی کے بارے میں بتا چکا ہے۔
وہ مجھے بار بار یقین دلاتا ہے کہ وہ مجھے وقت، محبت، عزت اور توجہ دے گا۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ خوش مزاج اور دوستانہ طبیعت کا ہے اور ایک ایسی زندگی چاہتا ہے جہاں دونوں ایک دوسرے کو سمجھیں اور خوش رکھیں۔
لیکن میرے دل میں شدید خوف اور غیر یقینی ہے۔ مجھے ڈر ہے کہ کہیں میں دوبارہ اسی تنہائی اور جذباتی خالی پن میں نہ چلی جاؤں جس سے میں پہلے ہی تنگ آ چکی ہوں۔ میں بار بار سوچتی ہوں کہ کیا یہ سب واقعی ویسا ہی ہوگا جیسا وہ دکھا رہا ہے یا یہ صرف ایک وقتی باتیں ہیں۔
مالی طور پر میں کمزور نہیں ہوں۔ میرے پاس اپنی کچھ بچت موجود ہے اور میں اکیلے بھی زندگی گزار سکتی ہوں۔ مجھے کسی ایسے شخص کی ضرورت نہیں جو صرف مالی سہارا دے، بلکہ مجھے ایسا شریک حیات چاہیے جو مجھے وقت دے، میری قدر کرے اور مجھے جذباتی سکون فراہم کرے۔
Comments
Post a Comment