Skip to main content

"6 ماہ کی شادی، 5 سال کا رشتہ اور ٹوٹتا ہوا اعتماد"

میری شادی کو 6 ماہ ہوئے ہیں، لیکن میں اپنے شوہر کو پچھلے 5 سال سے جانتی ہوں۔ ہماری ملاقات یونیورسٹی میں ہوئی تھی اور ہم کافی عرصہ ایک تعلق میں رہے۔ دونوں خاندانوں کی جدوجہد کے بعد ہماری شادی ممکن ہوئی، اور میں نے واقعی یقین کیا تھا کہ ہمارا رشتہ مضبوط اور دیرپا ہوگا۔

لیکن شادی کے بعد کچھ چیزیں ایسی سامنے آئیں جنہوں نے مجھے شدید ذہنی اور جذباتی طور پر متاثر کیا۔ ہنی مون کے ایک ہفتے بعد مجھے ان کے فون سے ایک فیک انسٹاگرام اکاؤنٹ کا پتہ چلا، جہاں وہ دوسری لڑکیوں کو نامناسب پیغامات بھیج رہے تھے۔ مزید یہ بھی سامنے آیا کہ شادی کی رات بھی وہ کسی اور لڑکی سے رابطے میں تھے اور ہنی مون کے دوران انہیں وہ جگہیں اور تصاویر بھی بھیج رہے تھے جہاں ہم جا رہے تھے۔ یہ سب جان کر میں مکمل طور پر ٹوٹ گئی، لیکن ان کا رویہ اس وقت جذباتی طور پر سرد اور لاتعلق تھا۔

میں نے یہ بات ان کی والدہ اور بہن کو بتائی، جنہوں نے انہیں سمجھایا اور مجھے تسلی دی۔ اس کے بعد بھی ہمارے درمیان اعتماد کا مسئلہ مکمل طور پر ختم نہیں ہو سکا۔ میں نے ان کے مالی دباؤ میں مدد کے لیے اپنا سونا بھی انہیں دیا تاکہ وہ اپنا قرض کم کر سکیں۔

شادی کے ابتدائی دنوں میں جب بھی کوئی جھگڑا ہوتا، وہ غصے میں مجھے دھکا دیتے، کھینچتے یا سخت رویہ اختیار کرتے کیونکہ ان کے مطابق میں زیادہ سوال کرتی ہوں، انہیں ٹوکتی ہوں اور ان کے آرام میں مداخلت کرتی ہوں۔ بعد میں مجھے یہ بھی معلوم ہوا کہ ہمارے تعلق کے دوران بھی وہ دوسری لڑکیوں سے بات کرتے رہے ہیں۔

وہ نائٹ شفٹ میں کام کرتے ہیں، اس لیے اکثر گھر پر نہیں ہوتے اور دیر سے واپس آتے ہیں۔ وہ زیادہ وقت دوستوں کے ساتھ یا اپنے کام میں گزارتے ہیں۔ جب بھی میں نے اپنے تحفظات یا شکایت کا اظہار کیا تو انہوں نے مجھے منفی، کنٹرول کرنے والی اور ذہنی دباؤ پیدا کرنے والی شخصیت کہا۔

اس سب کے باوجود ہمارے درمیان کچھ اچھے لمحے بھی رہے، جس کی وجہ سے میں مزید الجھن کا شکار رہی۔ لیکن وقت کے ساتھ حالات مزید خراب ہوئے۔ ایک شدید جھگڑے میں ہم دونوں نے ایک دوسرے کو سخت الفاظ کہے، اور اس دوران انہوں نے اپنے خاندان کے سامنے مجھے دھکا بھی دیا۔ بعد میں دونوں خاندانوں نے مداخلت کی اور صورتحال کو وقتی طور پر سنبھالا، لیکن تعلق میں واضح دراڑ آ چکی ہے۔

اب ہمارا رابطہ بہت کم ہو گیا ہے۔ میں جذباتی طور پر خود کو اس رشتے سے دور محسوس کرتی ہوں، اور مسلسل بے اعتمادی اور عدم تحفظ کا شکار ہوں۔ پاس ورڈز وغیرہ پہلے شیئرڈ تھے، لیکن اب دونوں طرف سے الگ کر دیے گئے ہیں۔

وہ سمجھتے ہیں کہ میں زیادہ شکایت کرتی ہوں، جبکہ میرے لیے اصل مسئلہ اعتماد کا بار بار ٹوٹنا اور اس پر سنجیدہ بات نہ ہونا ہے، جس نے میرے اندر مسلسل اضطراب اور عدم سکون پیدا کر دیا ہے۔


Comments

Popular posts from this blog

چند سوالات

  چند سوالات بات بہت سادہ ہے ، تین چار چھوٹے چھوٹے سوالات ہیں، اپنے آپ سے پوچھئیے ، جواب مل جائے گا۔ کیا ہر جگہ، موقعہ اور تقریب کے حساب سے ڈریسنگ نہیں کی جاتی ؟گھر میں روزمرہ استعمال،دفتر کا رسمی ڈریس، کسی مذہبی تقریب جیسے میلاد میں شرکت، تعزیتی تقریب، شادی کے فنکشن اور کسی ہائی پروفائل کوریج والی تقریب می شرکت کے لئے الگ نوعیت کا لباس پہنا جاتا ہے یا پہنا جانا چاہیے ؟ کیا مرد ہوں یا خواتین، دونوں کو مناسب ، ساتر ، ڈیسنٹ لباس نہیں پہننا چاہیے؟یا کسی معروف شخصیت ، ٹی وی سیلبریٹی کو، پبلک تقریب میں نامناسب، فضول، ولگر لکنگ ڈریس پہننا چاہیے ؟ کیا ایسا کرنے پر وہ حرف تنقید سے بالاتر ہوگئی ، اسے تقدس حاصل ہے کہ وہ عورت کارڈ کی چھتری تلے موجود ہے ؟ کیا آج کے دور میں جب سوشل میڈیا انتہائی ایکٹو ہے، ہمارے سامنے کچھ غلط ہوتا تو ہم اس پر کمنٹ نہیں کرتے ؟ کیا ہم پبلک پوسٹ کر کے تنقید نہیں کرتے ؟کیا یہ خلاف معمول، غلط ، غیر فطری اور نامناسب ہے ؟ اس سب کچھ کو سامنے رکھتے ہوئے اینکر غریدہ فاروقی کے نہایت نامناسب، ناموزوں لباس پر تنقید بالکل درست، مناسب اور جائز ہے۔ غریدہ فاروقی ایک پبل...

شادی شدہ بیٹی اور پردیس میں گیا بیٹا

  شادی شدہ بیٹی اور پردیس میں گیا بیٹا دونوں زندگی کے ایسے مرحلے میں ہوتے ہیں جہاں بظاہر وہ بڑے ہو چکے ہوتے ہیں، ذمہ داریاں سنبھال لیتے ہیں، مگر اندر سے وہ اب بھی اپنے گھر کے ساتھ جڑے ہوتے ہیں، ان کے دل میں ایک ایسی نرمی اور حساسیت ہوتی ہے جو ہر عام انسان کو نظر نہیں آتی، جب گھر سے کوئی غیر متوقع کال آتی ہے تو دل ایک لمحے کے لیے رک سا جاتا ہے، ذہن فوراً ہر ممکن خیال کی طرف چلا جاتا ہے، کیونکہ فاصلہ صرف جسم کا نہیں ہوتا بلکہ احساس کا بھی ہوتا ہے، شادی شدہ بیٹی اپنے نئے گھر میں ہوتے ہوئے بھی اکثر اپنے والدین کی فکر میں رہتی ہے، اسے ہر وقت یہ خیال ہوتا ہے کہ گھر والے کیسے ہیں، سب ٹھیک تو ہے یا نہیں، اور اسی طرح پردیس میں بیٹھا بیٹا بھی ہر وقت اپنے گھر کی خبر کا منتظر رہتا ہے، کیونکہ دوری انسان کو زیادہ حساس بنا دیتی ہے، یہ دونوں اپنی اپنی جگہ مضبوط نظر آتے ہیں مگر حقیقت میں ان کے دل بہت نرم ہوتے ہیں، وہ اپنے جذبات کو ظاہر نہیں کرتے مگر ہر لمحہ اندر ہی اندر اپنے گھر کے ساتھ جڑے رہتے ہیں، ان کے لیے ایک عام سی کال بھی بہت بڑی کیفیت لے آتی ہے، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ گھر سے آنے والی ہر آوا...

مومنا اقبال اور PML-N ایم پی اے کیس ایک تعلق، الزامات اور قانونی جنگ کی مکمل کہانی

کچھ کہانیاں صرف خبریں نہیں ہوتیں بلکہ وقت کے ساتھ ایک ایسے کیس میں بدل جاتی ہیں جہاں ہر فریق اپنے سچ کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے۔ پاکستانی اداکارہ مومنا اقبال اور پنجاب اسمبلی کے رکن ساقب چندھڑ (PML-N ایم پی اے) کا معاملہ اس وقت میڈیا اور سوشل میڈیا پر زیر بحث ہے۔ رپورٹس کے مطابق یہ معاملہ اچانک شروع نہیں ہوا بلکہ اس کی جڑیں مبینہ طور پر 2020–2021 کے دوران کے تعلقات سے جڑی ہوئی ہیں۔ دونوں کے درمیان قریبی رابطہ رہا، ذاتی گفتگو اور تعلقات کا ذکر سامنے آیا، اور بعد میں شادی سے متعلق بات چیت بھی رپورٹ کی گئی۔ وقت کے ساتھ یہی تعلق ایک بڑے تنازع میں تبدیل ہو گیا۔ مومنا اقبال کی جانب سے الزامات میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ انہیں مسلسل آن لائن ہراسانی کا سامنا رہا، واٹس ایپ اور کالز کے ذریعے دھمکیاں دی گئیں، ذہنی دباؤ اور بلیک میلنگ کی کوشش کی گئی، اور ان کی فیملی کو بھی مبینہ طور پر نشانہ بنایا گیا۔ ان کے مطابق یہ صورتحال اس وقت زیادہ سنگین ہوئی جب تعلق ختم ہوا اور شادی سے انکار کیا گیا۔ اسی بنیاد پر انہوں نے معاملہ پولیس اور NCCIA تک پہنچایا۔ دوسری جانب ملزم فریق کا مؤقف ہے کہ دونوں کے درمیان طویل عر...