Skip to main content
Editor's Choice Latest article published - explore new stories from ASIM MYSTIC.

"صبر، صدمہ اور خاموشی: ایک شوہر کی اندرونی جنگ"

ایک اداس مرد رات کے وقت تنہا بیٹھا ہے، ہاتھ دعا میں اٹھائے ہوئے ہے، جبکہ پس منظر میں ایک خاموش گھریلو ماحول اور جذباتی بوجھ کی علامتیں نظر آ رہی ہیں، جو صبر، ذہنی دباؤ اور رشتے کی آزمائش کو ظاہر کرتی ہیں۔
السلام علیکم،



میں 38 سالہ مرد ہوں۔ میں نے ایک ایسی خاتون سے شادی کی ہے جو ماضی میں ایک شدید صدمے (ریپ کے واقعے) سے گزری ہوئی تھیں۔ میں نے ان کا پورے دل، نیت اور اخلاص کے ساتھ ساتھ دیا ہے۔

میں نے انہیں دو بار خودکشی کی کوشش سے بچایا۔ شادی کے بعد میں نے ان کی تعلیم مکمل کروانے میں مدد کی، اور اب وہ گریجویٹ ہیں۔ میں نے ان کے جسمانی اور ہارمونل مسائل کے علاج میں بھی پچھلے تقریباً 10 سال سے مسلسل ان کا ساتھ دیا ہے۔ میں نے ہر ممکن کوشش کی کہ وہ دوبارہ ایک نارمل اور بہتر زندگی کی طرف آ سکیں۔

میرے لیے یہ سب ایک نیکی اور اللہ کی رضا کے لیے تھا، اور میں ہمیشہ یہی سوچتا رہا کہ شاید اللہ اس صبر اور خدمت کا کوئی بہتر بدلہ دے گا۔

لیکن اندرونی طور پر میں مسلسل ذہنی اور جذباتی دباؤ میں رہتا ہوں۔ کئی بار ایسا ہوتا ہے کہ میں خود کو ایک اندرونی کشمکش میں پاتا ہوں، خاص طور پر جب بیوی کی طبیعت یا صحت کے مسائل کی وجہ سے ہمارے درمیان جسمانی تعلق ممکن نہیں ہوتا۔ ایسے لمحوں میں مجھے شدید ذہنی دباؤ اور وسوسوں کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے، جسے میں خود بھی کنٹرول کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔

اب وہ خود بھی کبھی کبھی مجھ سے کہتی ہیں کہ میں دوسری شادی کر لوں، لیکن میں اس قابل نہیں ہوں کہ ایک اور شادی کی ذمہ داری اٹھا سکوں۔ ہم نے دو حملوں کا نقصان بھی دیکھا ہے، جو ہمارے لیے بہت بڑا صدمہ رہا ہے۔

میں نے ہر ممکن کوشش کی ہے کہ اس رشتے کو نبھا سکوں، لیکن اندرونی طور پر میں بہت تھک چکا ہوں اور اکثر خاموشی میں ذہنی اذیت محسوس کرتا ہوں۔ میں صرف اللہ سے یہی دعا کرتا ہوں کہ مجھے سکون، صبر اور اس صورتحال میں بہتر سمجھ عطا کرے۔




Comments

Popular posts from this blog

What Will Smartphones Look Like in 2030? Future Technology Explained

🌌 The Smartphone Is Not Disappearing… It Is Evolving Into Something Else If you think today’s smartphone is advanced, 2030 might feel like stepping into a different reality. The device we currently hold in our hands — glass screen, apps, touch gestures — is only a temporary stage in technological evolution . Just like feature phones faded into smartphones, today’s smartphones are slowly preparing to transform into something far more intelligent, immersive, and almost invisible. By 2030, the idea of “opening an app” may feel outdated. Instead, your device will anticipate your needs before you even touch it. This is not science fiction anymore — it is a direction already being built inside research labs of companies like Apple, Samsung, Google, and neural tech startups. 🧠 Smartphones Will Become AI Companions, Not Just Devices In 2030, the smartphone will no longer behave like a tool. It will behave like a thinking assistant layered over reality . Imagine this: You wake up la...

چند سوالات

  چند سوالات بات بہت سادہ ہے ، تین چار چھوٹے چھوٹے سوالات ہیں، اپنے آپ سے پوچھئیے ، جواب مل جائے گا۔ کیا ہر جگہ، موقعہ اور تقریب کے حساب سے ڈریسنگ نہیں کی جاتی ؟گھر میں روزمرہ استعمال،دفتر کا رسمی ڈریس، کسی مذہبی تقریب جیسے میلاد میں شرکت، تعزیتی تقریب، شادی کے فنکشن اور کسی ہائی پروفائل کوریج والی تقریب می شرکت کے لئے الگ نوعیت کا لباس پہنا جاتا ہے یا پہنا جانا چاہیے ؟ کیا مرد ہوں یا خواتین، دونوں کو مناسب ، ساتر ، ڈیسنٹ لباس نہیں پہننا چاہیے؟یا کسی معروف شخصیت ، ٹی وی سیلبریٹی کو، پبلک تقریب میں نامناسب، فضول، ولگر لکنگ ڈریس پہننا چاہیے ؟ کیا ایسا کرنے پر وہ حرف تنقید سے بالاتر ہوگئی ، اسے تقدس حاصل ہے کہ وہ عورت کارڈ کی چھتری تلے موجود ہے ؟ کیا آج کے دور میں جب سوشل میڈیا انتہائی ایکٹو ہے، ہمارے سامنے کچھ غلط ہوتا تو ہم اس پر کمنٹ نہیں کرتے ؟ کیا ہم پبلک پوسٹ کر کے تنقید نہیں کرتے ؟کیا یہ خلاف معمول، غلط ، غیر فطری اور نامناسب ہے ؟ اس سب کچھ کو سامنے رکھتے ہوئے اینکر غریدہ فاروقی کے نہایت نامناسب، ناموزوں لباس پر تنقید بالکل درست، مناسب اور جائز ہے۔ غریدہ فاروقی ایک پبل...

Hijrah to Madinah — The Emotional Migration of Prophet Muhammad ﷺ and the Turning Point of Islam