Skip to main content

"پردیس میں پھنسی ہوئی: ایک غیر ملکی ماں، دھمکیاں، تنہائی اور آزادی کی تلاش"

Ai Generated Image

میں ایک غیر ملکی خاتون ہوں اور گزشتہ پانچ سال سے اپنے شوہر کے ساتھ اسلام آباد میں رہ رہی ہوں۔ ہماری شادی کو کئی سال ہو چکے ہیں اور ہمارے بچے بھی ہیں۔ جب میں یہاں آئی تھی تو مجھے امید تھی کہ ہم ایک محفوظ اور خوشگوار زندگی بنائیں گے، لیکن وقت کے ساتھ صورتحال بالکل مختلف ہو گئی۔

گزشتہ چند سالوں میں میرے شوہر کا رویہ انتہائی کنٹرول کرنے والا اور بدسلوکی پر مبنی ہو گیا ہے۔ وہ اکثر مجھے دھمکیاں دیتا ہے اور یہاں تک کہ کئی بار یہ کہہ چکا ہے کہ اگر میں کبھی بچوں کے ساتھ اسے چھوڑنے کی کوشش کروں تو وہ مجھے شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔ ان باتوں نے مجھے مسلسل خوف اور ذہنی دباؤ میں مبتلا کر رکھا ہے۔

میرے شوہر کو لوگ بہت پراعتماد، کامیاب اور ہر دلعزیز شخص سمجھتے ہیں، جبکہ میں خود کو دن بدن کمزور، تنہا اور بے اختیار محسوس کرنے لگی ہوں۔ میرا یہاں کوئی قریبی دوست یا خاندان نہیں ہے، اور چونکہ میں پاکستان سے تعلق نہیں رکھتی اور اردو بھی نہیں بولتی، اس لیے اکثر خود کو مکمل طور پر الگ تھلگ محسوس کرتی ہوں۔

وہ بار بار مجھے یہ بھی کہتا ہے کہ اگر میں نے کبھی طلاق یا علیحدگی کی کوشش کی تو وہ اپنے اثر و رسوخ اور پیسے کے ذریعے بچوں کی کسٹڈی حاصل کر لے گا۔ مجھے پاکستانی قانونی نظام کے بارے میں بہت کم معلومات ہیں، جس کی وجہ سے یہ دھمکیاں مجھے مزید خوفزدہ کر دیتی ہیں۔

اگر ہمارے درمیان جھگڑا ہو جائے تو میرے پاس گھر چھوڑنے کے لیے کوئی محفوظ جگہ نہیں ہوتی۔ میری مالی صورتحال بھی اچھی نہیں ہے کیونکہ مجھے اپنے پیسوں تک مکمل رسائی حاصل نہیں۔ بعض اوقات میرے پاس کسی کو کال کرنے یا مدد مانگنے کے لیے فون کریڈٹ تک نہیں ہوتا۔

میں نے پہلے اپنے سفارت خانے سے رابطہ کیا تھا، جہاں مجھے بتایا گیا کہ اگر میں بچوں کے ساتھ قانونی طور پر ملک چھوڑنا چاہوں تو مجھے کسی وکیل کی مدد لینا ہوگی۔ حال ہی میں میں نے ای میل کے ذریعے ایک خاتون وکیل سے رابطہ کرنے کی بھی کوشش کی، لیکن مجھے کوئی جواب نہیں ملا۔

اس وقت میں خود کو بے بس، تنہا اور خوفزدہ محسوس کر رہی ہوں۔ میں صرف یہ جاننا چاہتی ہوں کہ میرے لیے کون سے محفوظ اور قانونی راستے موجود ہیں، اور میں اپنی اور اپنے بچوں کی حفاظت کیسے یقینی بنا سکتی ہوں۔ 

Comments

Popular posts from this blog

چند سوالات

  چند سوالات بات بہت سادہ ہے ، تین چار چھوٹے چھوٹے سوالات ہیں، اپنے آپ سے پوچھئیے ، جواب مل جائے گا۔ کیا ہر جگہ، موقعہ اور تقریب کے حساب سے ڈریسنگ نہیں کی جاتی ؟گھر میں روزمرہ استعمال،دفتر کا رسمی ڈریس، کسی مذہبی تقریب جیسے میلاد میں شرکت، تعزیتی تقریب، شادی کے فنکشن اور کسی ہائی پروفائل کوریج والی تقریب می شرکت کے لئے الگ نوعیت کا لباس پہنا جاتا ہے یا پہنا جانا چاہیے ؟ کیا مرد ہوں یا خواتین، دونوں کو مناسب ، ساتر ، ڈیسنٹ لباس نہیں پہننا چاہیے؟یا کسی معروف شخصیت ، ٹی وی سیلبریٹی کو، پبلک تقریب میں نامناسب، فضول، ولگر لکنگ ڈریس پہننا چاہیے ؟ کیا ایسا کرنے پر وہ حرف تنقید سے بالاتر ہوگئی ، اسے تقدس حاصل ہے کہ وہ عورت کارڈ کی چھتری تلے موجود ہے ؟ کیا آج کے دور میں جب سوشل میڈیا انتہائی ایکٹو ہے، ہمارے سامنے کچھ غلط ہوتا تو ہم اس پر کمنٹ نہیں کرتے ؟ کیا ہم پبلک پوسٹ کر کے تنقید نہیں کرتے ؟کیا یہ خلاف معمول، غلط ، غیر فطری اور نامناسب ہے ؟ اس سب کچھ کو سامنے رکھتے ہوئے اینکر غریدہ فاروقی کے نہایت نامناسب، ناموزوں لباس پر تنقید بالکل درست، مناسب اور جائز ہے۔ غریدہ فاروقی ایک پبل...

شادی شدہ بیٹی اور پردیس میں گیا بیٹا

  شادی شدہ بیٹی اور پردیس میں گیا بیٹا دونوں زندگی کے ایسے مرحلے میں ہوتے ہیں جہاں بظاہر وہ بڑے ہو چکے ہوتے ہیں، ذمہ داریاں سنبھال لیتے ہیں، مگر اندر سے وہ اب بھی اپنے گھر کے ساتھ جڑے ہوتے ہیں، ان کے دل میں ایک ایسی نرمی اور حساسیت ہوتی ہے جو ہر عام انسان کو نظر نہیں آتی، جب گھر سے کوئی غیر متوقع کال آتی ہے تو دل ایک لمحے کے لیے رک سا جاتا ہے، ذہن فوراً ہر ممکن خیال کی طرف چلا جاتا ہے، کیونکہ فاصلہ صرف جسم کا نہیں ہوتا بلکہ احساس کا بھی ہوتا ہے، شادی شدہ بیٹی اپنے نئے گھر میں ہوتے ہوئے بھی اکثر اپنے والدین کی فکر میں رہتی ہے، اسے ہر وقت یہ خیال ہوتا ہے کہ گھر والے کیسے ہیں، سب ٹھیک تو ہے یا نہیں، اور اسی طرح پردیس میں بیٹھا بیٹا بھی ہر وقت اپنے گھر کی خبر کا منتظر رہتا ہے، کیونکہ دوری انسان کو زیادہ حساس بنا دیتی ہے، یہ دونوں اپنی اپنی جگہ مضبوط نظر آتے ہیں مگر حقیقت میں ان کے دل بہت نرم ہوتے ہیں، وہ اپنے جذبات کو ظاہر نہیں کرتے مگر ہر لمحہ اندر ہی اندر اپنے گھر کے ساتھ جڑے رہتے ہیں، ان کے لیے ایک عام سی کال بھی بہت بڑی کیفیت لے آتی ہے، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ گھر سے آنے والی ہر آوا...

مومنا اقبال اور PML-N ایم پی اے کیس ایک تعلق، الزامات اور قانونی جنگ کی مکمل کہانی

کچھ کہانیاں صرف خبریں نہیں ہوتیں بلکہ وقت کے ساتھ ایک ایسے کیس میں بدل جاتی ہیں جہاں ہر فریق اپنے سچ کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے۔ پاکستانی اداکارہ مومنا اقبال اور پنجاب اسمبلی کے رکن ساقب چندھڑ (PML-N ایم پی اے) کا معاملہ اس وقت میڈیا اور سوشل میڈیا پر زیر بحث ہے۔ رپورٹس کے مطابق یہ معاملہ اچانک شروع نہیں ہوا بلکہ اس کی جڑیں مبینہ طور پر 2020–2021 کے دوران کے تعلقات سے جڑی ہوئی ہیں۔ دونوں کے درمیان قریبی رابطہ رہا، ذاتی گفتگو اور تعلقات کا ذکر سامنے آیا، اور بعد میں شادی سے متعلق بات چیت بھی رپورٹ کی گئی۔ وقت کے ساتھ یہی تعلق ایک بڑے تنازع میں تبدیل ہو گیا۔ مومنا اقبال کی جانب سے الزامات میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ انہیں مسلسل آن لائن ہراسانی کا سامنا رہا، واٹس ایپ اور کالز کے ذریعے دھمکیاں دی گئیں، ذہنی دباؤ اور بلیک میلنگ کی کوشش کی گئی، اور ان کی فیملی کو بھی مبینہ طور پر نشانہ بنایا گیا۔ ان کے مطابق یہ صورتحال اس وقت زیادہ سنگین ہوئی جب تعلق ختم ہوا اور شادی سے انکار کیا گیا۔ اسی بنیاد پر انہوں نے معاملہ پولیس اور NCCIA تک پہنچایا۔ دوسری جانب ملزم فریق کا مؤقف ہے کہ دونوں کے درمیان طویل عر...