سنبھالتی ہے، جن میں سکول، ہسپتال، روزمرہ خریداری، گھر کی مرمت کے کام اور دیگر انتظامی معاملات شامل ہیں۔ وہ میرا بھی بہت خیال رکھتی ہے، اس لیے بطور شوہر مجھے اس سے گھریلو معاملات کے حوالے سے کبھی کوئی شکایت نہیں رہی۔
میری ملازمت ایسی ہے جس میں روٹیشن پر کام کرنا پڑتا ہے۔ اس وقت میں 45 دن فیلڈ میں اور صرف 10 دن گھر پر ہوتا ہوں۔ اس سے پہلے میری روٹیشن 21 دن فیلڈ اور 10 دن گھر کی تھی، جبکہ کچھ عرصہ میں نے دبئی میں بھی ملازمت کی۔ میری دوسری بیٹی کی پیدائش کے بعد حالات بدلتے رہے، لیکن میری بیوی نے ہر مرحلے پر گھر اور بچوں کی ذمہ داری احسن طریقے سے نبھائی۔
تین سال پہلے جب میرے والد کی صحت خراب ہوئی تو میں اپنی بیوی اور بچوں کو واپس پاکستان لے آیا اور ہمارے لیے گھر کا اوپر والا پورشن الگ سے سیٹ کر دیا تاکہ ہم قریب بھی رہیں اور کچھ پرائیویسی بھی برقرار رہے۔
اصل مسئلہ میری والدہ اور میری بیوی کے درمیان تعلقات ہیں۔ میری والدہ اکثر میری بیوی اور ہمارا موازنہ میرے چھوٹے بھائی اور اس کی بیوی سے کرتی ہیں۔ میرا بھائی بے روزگار ہے اور مکمل طور پر میرے والدین پر انحصار کرتا ہے، جبکہ میرے والدین اس کے گھر کے تقریباً تمام اخراجات برداشت کرتے ہیں۔ اس کے برعکس، میں اپنے والدین کے بل، دوائیوں، جائیداد کے معاملات اور دیگر ضروری کاموں میں مسلسل تعاون کرتا ہوں۔
میری بیوی ایک مصروف ماں ہے اور زیادہ تر اپنی زندگی، بچوں اور گھر پر توجہ دیتی ہے۔ وہ غیر ضروری میل جول یا سیاست سے دور رہتی ہے۔ لیکن میری والدہ اس رویے کو بدتمیزی، دوری اور نافرمانی سمجھتی ہیں۔ وہ اکثر میرے بھائی کا دفاع کرتے ہوئے میری بیوی پر تنقید کرتی ہیں، جبکہ میرے بھائی اور اس کی بیوی کی غلطیوں کو نظر انداز کر دیتی ہیں۔
شادی کے ابتدائی سالوں میں ہی میری بیوی نے محسوس کر لیا تھا کہ میری والدہ میرے چھوٹے بھائی کو ترجیح دیتی ہیں۔ وہ اسے یا اس کی بیوی کو شاذ و نادر ہی تنقید کا نشانہ بناتی ہیں، جبکہ میری بیوی کی چھوٹی چھوٹی باتوں پر بھی اعتراض کر دیتی ہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ میری والدہ کو اپنے بے روزگار بیٹے کے مستقبل اور شادی کے حوالے سے خدشات رہتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ اس کی طرف زیادہ جھکاؤ رکھتی ہیں۔
وقت کے ساتھ میری بیوی نے واضح حدود (Boundaries) قائم کر لیں۔ وہ احترام کے ساتھ رہتی ہے، ضرورت پڑنے پر مدد بھی کرتی ہے، لیکن اپنی ذاتی زندگی اور ذہنی سکون کو ترجیح دیتی ہے۔ جب میری والدہ ان حدود کو عبور کرنے کی کوشش کرتی ہیں تو میری بیوی خاموشی سے اپنی پوزیشن واضح کر دیتی ہے۔ یہی بات میری والدہ کو ناگوار گزرتی ہے۔
اب صورتحال یہ ہے کہ جب بھی میں اپنے 10 دن کے بریک پر گھر آتا ہوں، میری والدہ مجھ سے بحث شروع کر دیتی ہیں۔ وہ مجھ پر الزام لگاتی ہیں کہ میں اپنی بیوی کی طرفداری کرتا ہوں، حالانکہ میں صرف انصاف کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ بعض اوقات وہ مجھے سخت باتیں اور بددعائیں بھی دیتی ہیں۔
میں اپنے والدین کا احترام کرتا ہوں، اپنی بیوی سے محبت کرتا ہوں اور اپنی بیٹیوں کے لیے پرسکون ماحول چاہتا ہوں۔ لیکن مسلسل تنازعات، موازنوں اور الزامات نے مجھے شدید ذہنی دباؤ، بے چینی اور جذباتی تھکن کا شکار کر دیا ہے۔ اب مجھے سمجھ نہیں آ رہا کہ میں اس صورتحال کو کیسے سنبھالوں تاکہ کسی کا دل بھی نہ دکھے اور گھر کا سکون بھی برقرار رہے۔
Comments
Post a Comment