Skip to main content

میرے بیٹے کی پنشن یا ہمارا کرایہ؟ منگنی کے بعد پیدا ہونے والا ایک بڑا مالی تنازع"

میں 38 سال کی خاتون ہوں اور میرا ایک 15 سال کا بیٹا ہے۔ میرے شوہر کا انتقال اس وقت ہو گیا تھا جب ہمارا بیٹا صرف پانچ سال کا  تھا۔ ان کے انتقال کے بعد میرے بیٹے کو ہر ماہ تقریباً 50,000 روپے پنشن کی صورت میں ملتے ہیں۔ گزشتہ دس سال سے میں یہ رقم اس کے لیے سنبھال رہی ہوں۔ اس میں سے کچھ حصہ اس کی ضروریات اور اخراجات پر خرچ کرتی ہوں جبکہ باقی رقم اس کے مستقبل، تعلیم اور مالی تحفظ کے لیے بچاتی ہوں۔ میری نظر میں یہ پیسہ میرے بیٹے کا حق ہے، نہ کہ گھر کی عام آمدنی۔

میرا بوائے فرینڈ اور میں کئی سالوں سے آن اینڈ آف تعلق میں رہے ہیں، اور اب ہماری منگنی ہو چکی ہے۔ ہم شادی کے بعد اکٹھے رہنے کے لیے گھر تلاش کر رہے ہیں۔ اس کے تین بچے ہیں، جن میں سے ایک ہمارے ساتھ مستقل رہے گا۔ جس گھر کو ہم پسند کر رہے ہیں اس کا ماہانہ کرایہ تقریباً 150,000 روپے ہے۔

مسئلہ اس وقت پیدا ہوا جب اس نے تجویز دی کہ کرایہ تین حصوں میں تقسیم کیا جائے: 50,000 وہ دے، 50,000 میں دوں، اور باقی 50,000 میرے بیٹے کی پنشن سے ادا کیے جائیں۔ میں نے فوراً اس بات سے انکار کر دیا کیونکہ میری نظر میں وہ رقم میرے بیٹے کی ہے اور اس کے والد کی یادگار اور ذمہ داری ہے، نہ کہ بالغ افراد کے رہائشی اخراجات پورے کرنے کا ذریعہ۔

میرے منگیتر کا کہنا ہے کہ شادی کے بعد ہم ایک خاندان ہوں گے اور تمام مالی وسائل مشترکہ ہونے چاہئیں۔ اس کے مطابق میں اپنے بیٹے کے پیسے الگ رکھ کر خود غرضی اور پرانے خیالات کا مظاہرہ کر رہی ہوں۔ اس نے یہاں تک کہا کہ میرے بیٹے کو اپنے والد یاد بھی نہیں، اس لیے اس رقم سے اس کی کوئی جذباتی وابستگی نہیں ہونی چاہیے۔ اس کا خیال ہے کہ یہ پیسہ گھر کے اخراجات میں استعمال ہونا چاہیے تاکہ ہم ایک بہتر زندگی بنا سکیں۔

یہ بات سن کر مجھے شدید تکلیف ہوئی۔ مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے وہ میرے بیٹے کے حق اور اس کے مرحوم والد کی وراثت کو ایک مالی سہولت کے طور پر دیکھ رہا ہے۔ مجھے یہ بھی عجیب لگا کہ وہ میرے بیٹے کے پیسے کو مشترکہ خرچ سمجھتا ہے، لیکن اپنی ذاتی آمدنی اور وسائل پر اسی طرح بات نہیں کرتا۔

اب میں سوچ رہی ہوں کہ کیا میں واقعی غلط ہوں جو اپنے بیٹے کے پیسے کو صرف اسی کے لیے محفوظ رکھنا چاہتی ہوں؟ یا پھر یہ ایک بڑا خطرے کا اشارہ ہے کہ میں ایسے شخص سے شادی کرنے جا رہی ہوں جو میرے بیٹے کے مالی حق کو گھر کے بجٹ کا حصہ سمجھ رہا ہے؟


Comments

Popular posts from this blog

چند سوالات

  چند سوالات بات بہت سادہ ہے ، تین چار چھوٹے چھوٹے سوالات ہیں، اپنے آپ سے پوچھئیے ، جواب مل جائے گا۔ کیا ہر جگہ، موقعہ اور تقریب کے حساب سے ڈریسنگ نہیں کی جاتی ؟گھر میں روزمرہ استعمال،دفتر کا رسمی ڈریس، کسی مذہبی تقریب جیسے میلاد میں شرکت، تعزیتی تقریب، شادی کے فنکشن اور کسی ہائی پروفائل کوریج والی تقریب می شرکت کے لئے الگ نوعیت کا لباس پہنا جاتا ہے یا پہنا جانا چاہیے ؟ کیا مرد ہوں یا خواتین، دونوں کو مناسب ، ساتر ، ڈیسنٹ لباس نہیں پہننا چاہیے؟یا کسی معروف شخصیت ، ٹی وی سیلبریٹی کو، پبلک تقریب میں نامناسب، فضول، ولگر لکنگ ڈریس پہننا چاہیے ؟ کیا ایسا کرنے پر وہ حرف تنقید سے بالاتر ہوگئی ، اسے تقدس حاصل ہے کہ وہ عورت کارڈ کی چھتری تلے موجود ہے ؟ کیا آج کے دور میں جب سوشل میڈیا انتہائی ایکٹو ہے، ہمارے سامنے کچھ غلط ہوتا تو ہم اس پر کمنٹ نہیں کرتے ؟ کیا ہم پبلک پوسٹ کر کے تنقید نہیں کرتے ؟کیا یہ خلاف معمول، غلط ، غیر فطری اور نامناسب ہے ؟ اس سب کچھ کو سامنے رکھتے ہوئے اینکر غریدہ فاروقی کے نہایت نامناسب، ناموزوں لباس پر تنقید بالکل درست، مناسب اور جائز ہے۔ غریدہ فاروقی ایک پبل...

شادی شدہ بیٹی اور پردیس میں گیا بیٹا

  شادی شدہ بیٹی اور پردیس میں گیا بیٹا دونوں زندگی کے ایسے مرحلے میں ہوتے ہیں جہاں بظاہر وہ بڑے ہو چکے ہوتے ہیں، ذمہ داریاں سنبھال لیتے ہیں، مگر اندر سے وہ اب بھی اپنے گھر کے ساتھ جڑے ہوتے ہیں، ان کے دل میں ایک ایسی نرمی اور حساسیت ہوتی ہے جو ہر عام انسان کو نظر نہیں آتی، جب گھر سے کوئی غیر متوقع کال آتی ہے تو دل ایک لمحے کے لیے رک سا جاتا ہے، ذہن فوراً ہر ممکن خیال کی طرف چلا جاتا ہے، کیونکہ فاصلہ صرف جسم کا نہیں ہوتا بلکہ احساس کا بھی ہوتا ہے، شادی شدہ بیٹی اپنے نئے گھر میں ہوتے ہوئے بھی اکثر اپنے والدین کی فکر میں رہتی ہے، اسے ہر وقت یہ خیال ہوتا ہے کہ گھر والے کیسے ہیں، سب ٹھیک تو ہے یا نہیں، اور اسی طرح پردیس میں بیٹھا بیٹا بھی ہر وقت اپنے گھر کی خبر کا منتظر رہتا ہے، کیونکہ دوری انسان کو زیادہ حساس بنا دیتی ہے، یہ دونوں اپنی اپنی جگہ مضبوط نظر آتے ہیں مگر حقیقت میں ان کے دل بہت نرم ہوتے ہیں، وہ اپنے جذبات کو ظاہر نہیں کرتے مگر ہر لمحہ اندر ہی اندر اپنے گھر کے ساتھ جڑے رہتے ہیں، ان کے لیے ایک عام سی کال بھی بہت بڑی کیفیت لے آتی ہے، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ گھر سے آنے والی ہر آوا...

مومنا اقبال اور PML-N ایم پی اے کیس ایک تعلق، الزامات اور قانونی جنگ کی مکمل کہانی

کچھ کہانیاں صرف خبریں نہیں ہوتیں بلکہ وقت کے ساتھ ایک ایسے کیس میں بدل جاتی ہیں جہاں ہر فریق اپنے سچ کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے۔ پاکستانی اداکارہ مومنا اقبال اور پنجاب اسمبلی کے رکن ساقب چندھڑ (PML-N ایم پی اے) کا معاملہ اس وقت میڈیا اور سوشل میڈیا پر زیر بحث ہے۔ رپورٹس کے مطابق یہ معاملہ اچانک شروع نہیں ہوا بلکہ اس کی جڑیں مبینہ طور پر 2020–2021 کے دوران کے تعلقات سے جڑی ہوئی ہیں۔ دونوں کے درمیان قریبی رابطہ رہا، ذاتی گفتگو اور تعلقات کا ذکر سامنے آیا، اور بعد میں شادی سے متعلق بات چیت بھی رپورٹ کی گئی۔ وقت کے ساتھ یہی تعلق ایک بڑے تنازع میں تبدیل ہو گیا۔ مومنا اقبال کی جانب سے الزامات میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ انہیں مسلسل آن لائن ہراسانی کا سامنا رہا، واٹس ایپ اور کالز کے ذریعے دھمکیاں دی گئیں، ذہنی دباؤ اور بلیک میلنگ کی کوشش کی گئی، اور ان کی فیملی کو بھی مبینہ طور پر نشانہ بنایا گیا۔ ان کے مطابق یہ صورتحال اس وقت زیادہ سنگین ہوئی جب تعلق ختم ہوا اور شادی سے انکار کیا گیا۔ اسی بنیاد پر انہوں نے معاملہ پولیس اور NCCIA تک پہنچایا۔ دوسری جانب ملزم فریق کا مؤقف ہے کہ دونوں کے درمیان طویل عر...