میرا بوائے فرینڈ اور میں کئی سالوں سے آن اینڈ آف تعلق میں رہے ہیں، اور اب ہماری منگنی ہو چکی ہے۔ ہم شادی کے بعد اکٹھے رہنے کے لیے گھر تلاش کر رہے ہیں۔ اس کے تین بچے ہیں، جن میں سے ایک ہمارے ساتھ مستقل رہے گا۔ جس گھر کو ہم پسند کر رہے ہیں اس کا ماہانہ کرایہ تقریباً 150,000 روپے ہے۔
مسئلہ اس وقت پیدا ہوا جب اس نے تجویز دی کہ کرایہ تین حصوں میں تقسیم کیا جائے: 50,000 وہ دے، 50,000 میں دوں، اور باقی 50,000 میرے بیٹے کی پنشن سے ادا کیے جائیں۔ میں نے فوراً اس بات سے انکار کر دیا کیونکہ میری نظر میں وہ رقم میرے بیٹے کی ہے اور اس کے والد کی یادگار اور ذمہ داری ہے، نہ کہ بالغ افراد کے رہائشی اخراجات پورے کرنے کا ذریعہ۔
میرے منگیتر کا کہنا ہے کہ شادی کے بعد ہم ایک خاندان ہوں گے اور تمام مالی وسائل مشترکہ ہونے چاہئیں۔ اس کے مطابق میں اپنے بیٹے کے پیسے الگ رکھ کر خود غرضی اور پرانے خیالات کا مظاہرہ کر رہی ہوں۔ اس نے یہاں تک کہا کہ میرے بیٹے کو اپنے والد یاد بھی نہیں، اس لیے اس رقم سے اس کی کوئی جذباتی وابستگی نہیں ہونی چاہیے۔ اس کا خیال ہے کہ یہ پیسہ گھر کے اخراجات میں استعمال ہونا چاہیے تاکہ ہم ایک بہتر زندگی بنا سکیں۔
یہ بات سن کر مجھے شدید تکلیف ہوئی۔ مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے وہ میرے بیٹے کے حق اور اس کے مرحوم والد کی وراثت کو ایک مالی سہولت کے طور پر دیکھ رہا ہے۔ مجھے یہ بھی عجیب لگا کہ وہ میرے بیٹے کے پیسے کو مشترکہ خرچ سمجھتا ہے، لیکن اپنی ذاتی آمدنی اور وسائل پر اسی طرح بات نہیں کرتا۔
اب میں سوچ رہی ہوں کہ کیا میں واقعی غلط ہوں جو اپنے بیٹے کے پیسے کو صرف اسی کے لیے محفوظ رکھنا چاہتی ہوں؟ یا پھر یہ ایک بڑا خطرے کا اشارہ ہے کہ میں ایسے شخص سے شادی کرنے جا رہی ہوں جو میرے بیٹے کے مالی حق کو گھر کے بجٹ کا حصہ سمجھ رہا ہے؟
Comments
Post a Comment