مومنہ اقبال اور ثاقب چدھڑ کیس
سیاست، شوبز، طاقت اور منافقت کا وہ طوفان جس نے پاکستانی اشرافیہ کا چہرہ ننگا کردیا
پاکستان میں scandals آتے نہیں… پھٹتے ہیں۔
اور جب scandal میں ایک اداکارہ، ایک طاقتور سیاستدان، luxury lifestyle، خفیہ تعلقات، کروڑوں کے تحائف، ایف آئی آرز، دھمکیاں اور political influence شامل ہوجائے تو پھر یہ صرف خبر نہیں رہتی، پورا تماشہ بن جاتی ہے۔
مومنہ اقبال اور مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے رکنِ اسمبلی ثاقب چدھڑ کا تنازعہ بھی اب ایک ایسا ہی سیاسی و سماجی volcano بن چکا ہے جس کا lava پورے پاکستانی سوشل میڈیا پر بہہ رہا ہے۔
چند ہفتے پہلے تک مومنہ اقبال صرف ایک glamorous actress تھیں۔
ثاقب چدھڑ صرف ایک politician تھے۔
لیکن پھر اچانک:
relationship claims،
luxury gifts،
bank transfers،
foreign tours،
cyber complaints،
threat allegations،
اور “پانچ سالہ تعلق” کے دعووں نے پورے ملک کو gossip، outrage اور hypocrisy کے ایک dangerous cocktail میں دھکیل دیا۔
سب سے دلچسپ بات یہ نہیں کہ scandal ہوا۔
پاکستان میں scandals نئے نہیں۔
اصل دلچسپ بات یہ ہے کہ اس scandal نے پاکستانی elite class کی وہ منافقت expose کردی جسے لوگ برسوں سے قالین کے نیچے چھپاتے آرہے تھے۔
یہ وہی سیاستدان ہیں جو جلسوں میں “اسلامی اقدار” کا درس دیتے ہیں۔
خاندانی نظام پر speeches کرتے ہیں۔
مغربی بے حیائی پر غصہ دکھاتے ہیں۔
مگر پھر انہی طاقتور حلقوں میں secret affairs، luxury relationships، private meetings اور influence-based protection کے قصے کیوں گردش کرتے رہتے ہیں؟
اگر میڈیا رپورٹس درست ہیں تو سوال صرف ایک relationship کا نہیں۔
سوال یہ ہے کہ آخر ایک elected representative کی lifestyle اور financial dealings کتنی transparent ہیں؟
لوگ پوچھ رہے ہیں:
ایک صوبائی سیاستدان اتنے expensive gifts، گاڑیاں، tours اور lavish spending کہاں سے afford کرتا ہے؟
اور یہی وہ جگہ ہے جہاں پاکستانی سیاست ہمیشہ دھند میں غائب ہوجاتی ہے۔
ثاقب چدھڑ کا نام اس سے پہلے بھی مختلف تنازعات اور allegations کے ساتھ جوڑا جاتا رہا ہے۔
سوشل میڈیا پر پرانے cases، arrests اور مبینہ scandals دوبارہ circulate ہورہے ہیں۔
کچھ حلقے ان پر سنگین نوعیت کے الزامات بھی دہرا رہے ہیں، تاہم ان میں سے کئی دعووں کی آزادانہ تصدیق یا عدالتی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔
لیکن پاکستان میں مسئلہ صرف جرم نہیں ہوتا۔
مسئلہ perception ہوتا ہے۔
اور جب ایک politician کا public image بار بار controversies سے جڑنے لگے تو پھر عوام کے ذہن میں سوال پیدا ہونا فطری ہوجاتا ہے۔
اب ذرا مومنہ اقبال کی طرف آتے ہیں۔
پاکستانی showbiz industry اب talent سے زیادہ attention economy بن چکی ہے۔
یہاں fame کا ایندھن acting نہیں، controversy بنتی جارہی ہے۔
Bold photoshoots، glamorous branding، elite networking، luxury exposure اور viral clips اب celebrity business model کا حصہ بن چکے ہیں۔
اور پھر یہی society انہی celebrities کو follow بھی کرتی ہے، obsess بھی کرتی ہے، اور بعد میں انہی پر moral policing بھی شروع کردیتی ہے۔
یہاں hypocrisy اپنی آخری stage پر پہنچ چکی ہے۔
وہی لوگ actresses کی reels save کرتے ہیں،
وہی late night interviews دیکھتے ہیں،
وہی glamour industry کو millions views دیتے ہیں،
پھر اچانک “مشرقی اقدار” کے self-appointed guards بن جاتے ہیں۔
اس case میں بھی یہی ہوا۔
ایک گروپ نے مومنہ اقبال کو فوراً “gold digger” قرار دے دیا۔
دوسرے گروپ نے politician کو “victim” بنادیا۔
کسی نے یہ نہیں پوچھا کہ اگر تعلق واقعی mutual تھا تو اخلاقی ذمہ داری دونوں پر برابر کیوں نہیں؟
پاکستان میں مرد scandal کرے تو “شوقین مزاج” کہلاتا ہے۔
عورت scandal میں آئے تو “کردار” discuss ہونے لگتا ہے۔
یہاں طاقتور مرد کا گناہ private matter ہوتا ہے،
اور عورت کی غلطی public character certificate بن جاتی ہے۔
پھر یہی لوگ مغرب کو “بے حیائی” کا مرکز کہتے ہیں۔
فرق صرف اتنا ہے کہ مغرب میں scandal سامنے آئے تو career تباہ ہوجاتا ہے۔
پاکستان میں scandal سامنے آئے تو TikTok edits، YouTube thumbnails اور TV ratings بڑھ جاتی ہیں۔
یہاں scandal punishment نہیں، publicity package بن چکا ہے۔
اور میڈیا؟
وہ تو اس پورے circus کا ringmaster بن چکا ہے۔
Breaking news، leaked chats، emotional thumbnails، dramatic music اور fake morality کے ساتھ ہر channel TRP harvesting میں مصروف ہے۔
پاکستان میں اصل crisis شاید morality کا نہیں۔
اصل crisis selective morality کا ہے۔
ہمیں modern lifestyle چاہئے
لیکن accountability نہیں۔
ہمیں glamour چاہئے
لیکن criticism نہیں۔
ہمیں مذہب کا label چاہئے
لیکن کردار کی قیمت ادا نہیں کرنی۔
اور شاید اسی لئے ہر چند ماہ بعد کوئی نہ کوئی scandal آکر پوری قوم کے چہرے سے اخلاقیات کا makeup بہا دیتا ہے۔
آخر میں سوال صرف مومنہ اقبال یا ثاقب چدھڑ کا نہیں۔
سوال یہ ہے:
پاکستان میں طاقتور لوگ قانون سے بڑے کیوں نظر آتے ہیں؟
کیوں ہر scandal کچھ دن شور مچاتا ہے اور پھر influence کے قالین کے نیچے دفن ہوجاتا ہے؟
اور کیوں اس ملک میں کردار سے زیادہ طاقت کی اہمیت ہے؟
کیونکہ یہاں سچ سے زیادہ طاقتور چیز صرف ایک ہے:
“اثر و رسوخ۔”
Comments
Post a Comment