Skip to main content
Editor's Choice Latest article published - explore new stories from ASIM MYSTIC.

"اچھا رشتہ، مگر دو خدشات: قد کی کمی اور کنجوسی کا ڈر"

ہیلو سب لوگ،

میں 24 سال کی ڈاکٹر ہوں اور حال ہی میں میری بات پکی ہوئی ہے۔ میں اعوان فیملی سے تعلق رکھتی ہوں، اور ہمارے خاندان میں عموماً کاسٹ سے باہر شادیاں نہیں ہوتیں۔ تاہم، میری فیملی کی ایک اہم شرط یہ تھی کہ لڑکا ڈاکٹر ہو کیونکہ میں خود بھی ڈاکٹر ہوں۔ اسی وجہ سے میرا رشتہ ایک شیخ فیملی میں طے ہوا ہے۔

میرے منگیتر مجھ سے تقریباً 5 سال بڑے ہیں اور کافی سمجھدار اور میچور لگتے ہیں۔ جتنی بھی معلومات اور ملاقاتیں ہوئی ہیں، ان کی شخصیت، تعلیم اور رویے کے حوالے سے مجھے وہ مناسب لگے ہیں۔ میری فیملی کو بھی وہ اچھے، سنجیدہ اور ذمہ دار محسوس ہوئے ہیں۔

لیکن میرے ذہن میں دو چیزیں بار بار آتی ہیں۔ پہلی بات ان کی ہائٹ ہے۔ وہ شاید مجھ سے صرف 1 یا 2 انچ لمبے ہیں، جبکہ میری اپنی ہائٹ 5.3 فٹ ہے۔ سچ یہ ہے کہ مجھے ہمیشہ لمبے قد والے مرد زیادہ اٹریکٹو لگتے تھے۔ میں کوشش کر رہی ہوں کہ اس بات کو اہمیت نہ دوں کیونکہ باقی بہت سی چیزیں مثبت ہیں، لیکن پھر بھی کبھی کبھی دل میں خیال آتا ہے کہ کاش ان کا قد تھوڑا زیادہ ہوتا۔ یہاں تک کہ میں مستقبل میں بچوں کی ہائٹ کے بارے میں بھی سوچنے لگتی ہوں، حالانکہ مجھے معلوم ہے کہ صرف ایک فیکٹر سے سب کچھ طے نہیں ہوتا۔

دوسری بات یہ ہے کہ جو بھی ان کے گھر والوں کو جانتا ہے یا ان کے ساتھ میل جول رکھتا ہے، اکثر یہی کہتا ہے کہ وہ کافی کنجوس مزاج ہیں۔ عید پر انہوں نے میرے لیے اچھا تحفہ بھیجا تھا اور میرے ساتھ اب تک کوئی برا رویہ بھی نہیں رہا، لیکن لوگوں کی باتیں سن کر میرے ذہن میں خدشات پیدا ہو جاتے ہیں۔ میں نہیں چاہتی کہ شادی کے بعد ہر چیز میں حد سے زیادہ بچت یا تنگی کا ماحول ہو اور زندگی مسلسل مالی حساب کتاب میں گزرے۔

اب میں سوچتی ہوں کہ کیا میں غیر ضروری طور پر چھوٹی باتوں کو بڑا بنا رہی ہوں، یا پھر یہ واقعی ایسے معاملات ہیں جن پر شادی سے پہلے سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے؟


Comments

Popular posts from this blog

What Will Smartphones Look Like in 2030? Future Technology Explained

🌌 The Smartphone Is Not Disappearing… It Is Evolving Into Something Else If you think today’s smartphone is advanced, 2030 might feel like stepping into a different reality. The device we currently hold in our hands — glass screen, apps, touch gestures — is only a temporary stage in technological evolution . Just like feature phones faded into smartphones, today’s smartphones are slowly preparing to transform into something far more intelligent, immersive, and almost invisible. By 2030, the idea of “opening an app” may feel outdated. Instead, your device will anticipate your needs before you even touch it. This is not science fiction anymore — it is a direction already being built inside research labs of companies like Apple, Samsung, Google, and neural tech startups. 🧠 Smartphones Will Become AI Companions, Not Just Devices In 2030, the smartphone will no longer behave like a tool. It will behave like a thinking assistant layered over reality . Imagine this: You wake up la...

چند سوالات

  چند سوالات بات بہت سادہ ہے ، تین چار چھوٹے چھوٹے سوالات ہیں، اپنے آپ سے پوچھئیے ، جواب مل جائے گا۔ کیا ہر جگہ، موقعہ اور تقریب کے حساب سے ڈریسنگ نہیں کی جاتی ؟گھر میں روزمرہ استعمال،دفتر کا رسمی ڈریس، کسی مذہبی تقریب جیسے میلاد میں شرکت، تعزیتی تقریب، شادی کے فنکشن اور کسی ہائی پروفائل کوریج والی تقریب می شرکت کے لئے الگ نوعیت کا لباس پہنا جاتا ہے یا پہنا جانا چاہیے ؟ کیا مرد ہوں یا خواتین، دونوں کو مناسب ، ساتر ، ڈیسنٹ لباس نہیں پہننا چاہیے؟یا کسی معروف شخصیت ، ٹی وی سیلبریٹی کو، پبلک تقریب میں نامناسب، فضول، ولگر لکنگ ڈریس پہننا چاہیے ؟ کیا ایسا کرنے پر وہ حرف تنقید سے بالاتر ہوگئی ، اسے تقدس حاصل ہے کہ وہ عورت کارڈ کی چھتری تلے موجود ہے ؟ کیا آج کے دور میں جب سوشل میڈیا انتہائی ایکٹو ہے، ہمارے سامنے کچھ غلط ہوتا تو ہم اس پر کمنٹ نہیں کرتے ؟ کیا ہم پبلک پوسٹ کر کے تنقید نہیں کرتے ؟کیا یہ خلاف معمول، غلط ، غیر فطری اور نامناسب ہے ؟ اس سب کچھ کو سامنے رکھتے ہوئے اینکر غریدہ فاروقی کے نہایت نامناسب، ناموزوں لباس پر تنقید بالکل درست، مناسب اور جائز ہے۔ غریدہ فاروقی ایک پبل...

Hijrah to Madinah — The Emotional Migration of Prophet Muhammad ﷺ and the Turning Point of Islam