Skip to main content

گلگت بلتستان الیکشن 2026: ووٹ جیتا یا فارمولہ؟

7 جون کو گلگت بلتستان کے عوام نے ووٹ ڈال دیے، 8 جون کو نتائج آنا شروع ہوئے، اور حسبِ روایت سوالات بھی نتائج سے زیادہ تیزی سے سامنے آنے لگے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ہر جماعت خود کو عوام کی اصل آواز قرار دیتی ہے، لیکن جیسے ہی نتائج آنے لگتے ہیں، سب سے پہلے عوام پر نہیں بلکہ فارم 45، پولنگ اسٹیشنوں اور انتخابی عمل پر گفتگو شروع ہو جاتی ہے۔

غیر سرکاری نتائج کے مطابق پیپلز پارٹی سب سے بڑی جماعت بن کر سامنے آ رہی ہے، جبکہ آزاد امیدوار ایک بار پھر "کنگ میکر" کے کردار میں دکھائی دے رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر ہر الیکشن میں آزاد امیدوار ہی حکومت سازی کا رخ متعین کرتے ہیں تو سیاسی جماعتیں نظریات پر چلتی ہیں یا بعد از الیکشن ریاضی پر؟

24 نشستوں کے لیے سیکڑوں امیدوار میدان میں تھے۔ جلسوں میں عوام کو یقین دلایا گیا کہ یہ الیکشن علاقے کی تقدیر بدل دے گا۔ مگر گلگت بلتستان کے عام شہری کے ذہن میں ایک سادہ سا سوال اب بھی زندہ ہے: گزشتہ الیکشنوں میں جو تقدیر بدلنے کے وعدے کیے گئے تھے، وہ کہاں پہنچے؟

مزید دلچسپ منظر یہ ہے کہ جن جماعتوں نے انتخابی مہم کے دوران ایک دوسرے پر شدید تنقید کی، نتائج کے بعد انہی کے درمیان ممکنہ اتحادوں اور سیاسی رابطوں کی باتیں شروع ہو جاتی ہیں۔ عوام حیران رہ جاتی ہے کہ کیا انتخابی مہم ایک سیاسی جنگ تھی یا صرف ایک ڈرامے کا پہلا سین؟ سوشل میڈیا پر بھی یہی سوالات گردش کر رہے ہیں اور لوگ روایتی سیاسی رویوں پر طنز کر رہے ہیں۔

کچھ جماعتیں دھاندلی کا الزام لگا رہی ہیں، کچھ بے ضابطگیوں کی نشاندہی کر رہی ہیں، اور کچھ فتح کے جشن منا رہی ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ شکایات بھی وہی کر رہے ہیں جو جیت رہے ہیں، اور شکایات بھی وہی کر رہے ہیں جو ہار رہے ہیں۔ ایسی صورتحال میں عام ووٹر سوچتا ہے کہ اگر سب کو اعتراض ہے تو آخر مطمئن کون ہے؟

8 جون کی شام تک تصویر مکمل نہیں ہوئی، لیکن ایک حقیقت ضرور واضح ہو چکی ہے: گلگت بلتستان کے عوام نے اپنا فیصلہ بیلٹ بکس میں ڈال دیا ہے، اب اصل امتحان ان لوگوں کا ہے جو ان ووٹوں کے نام پر اقتدار حاصل کریں گے۔ سوال صرف یہ نہیں کہ کون جیتا، اصل سوال یہ ہے کہ کیا عوام کے مسائل بھی کبھی جیتیں گے؟

کیونکہ گلگت بلتستان میں حکومتیں بدلنا خبر نہیں رہی، عوام کی زندگی بدلنا خبر بن چکا ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

چند سوالات

  چند سوالات بات بہت سادہ ہے ، تین چار چھوٹے چھوٹے سوالات ہیں، اپنے آپ سے پوچھئیے ، جواب مل جائے گا۔ کیا ہر جگہ، موقعہ اور تقریب کے حساب سے ڈریسنگ نہیں کی جاتی ؟گھر میں روزمرہ استعمال،دفتر کا رسمی ڈریس، کسی مذہبی تقریب جیسے میلاد میں شرکت، تعزیتی تقریب، شادی کے فنکشن اور کسی ہائی پروفائل کوریج والی تقریب می شرکت کے لئے الگ نوعیت کا لباس پہنا جاتا ہے یا پہنا جانا چاہیے ؟ کیا مرد ہوں یا خواتین، دونوں کو مناسب ، ساتر ، ڈیسنٹ لباس نہیں پہننا چاہیے؟یا کسی معروف شخصیت ، ٹی وی سیلبریٹی کو، پبلک تقریب میں نامناسب، فضول، ولگر لکنگ ڈریس پہننا چاہیے ؟ کیا ایسا کرنے پر وہ حرف تنقید سے بالاتر ہوگئی ، اسے تقدس حاصل ہے کہ وہ عورت کارڈ کی چھتری تلے موجود ہے ؟ کیا آج کے دور میں جب سوشل میڈیا انتہائی ایکٹو ہے، ہمارے سامنے کچھ غلط ہوتا تو ہم اس پر کمنٹ نہیں کرتے ؟ کیا ہم پبلک پوسٹ کر کے تنقید نہیں کرتے ؟کیا یہ خلاف معمول، غلط ، غیر فطری اور نامناسب ہے ؟ اس سب کچھ کو سامنے رکھتے ہوئے اینکر غریدہ فاروقی کے نہایت نامناسب، ناموزوں لباس پر تنقید بالکل درست، مناسب اور جائز ہے۔ غریدہ فاروقی ایک پبل...

What Will Smartphones Look Like in 2030? Future Technology Explained

🌌 The Smartphone Is Not Disappearing… It Is Evolving Into Something Else If you think today’s smartphone is advanced, 2030 might feel like stepping into a different reality. The device we currently hold in our hands — glass screen, apps, touch gestures — is only a temporary stage in technological evolution . Just like feature phones faded into smartphones, today’s smartphones are slowly preparing to transform into something far more intelligent, immersive, and almost invisible. By 2030, the idea of “opening an app” may feel outdated. Instead, your device will anticipate your needs before you even touch it. This is not science fiction anymore — it is a direction already being built inside research labs of companies like Apple, Samsung, Google, and neural tech startups. 🧠 Smartphones Will Become AI Companions, Not Just Devices In 2030, the smartphone will no longer behave like a tool. It will behave like a thinking assistant layered over reality . Imagine this: You wake up la...

Hijrah to Madinah — The Emotional Migration of Prophet Muhammad ﷺ and the Turning Point of Islam