غیر سرکاری نتائج کے مطابق پیپلز پارٹی سب سے بڑی جماعت بن کر سامنے آ رہی ہے، جبکہ آزاد امیدوار ایک بار پھر "کنگ میکر" کے کردار میں دکھائی دے رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر ہر الیکشن میں آزاد امیدوار ہی حکومت سازی کا رخ متعین کرتے ہیں تو سیاسی جماعتیں نظریات پر چلتی ہیں یا بعد از الیکشن ریاضی پر؟
24 نشستوں کے لیے سیکڑوں امیدوار میدان میں تھے۔ جلسوں میں عوام کو یقین دلایا گیا کہ یہ الیکشن علاقے کی تقدیر بدل دے گا۔ مگر گلگت بلتستان کے عام شہری کے ذہن میں ایک سادہ سا سوال اب بھی زندہ ہے: گزشتہ الیکشنوں میں جو تقدیر بدلنے کے وعدے کیے گئے تھے، وہ کہاں پہنچے؟
مزید دلچسپ منظر یہ ہے کہ جن جماعتوں نے انتخابی مہم کے دوران ایک دوسرے پر شدید تنقید کی، نتائج کے بعد انہی کے درمیان ممکنہ اتحادوں اور سیاسی رابطوں کی باتیں شروع ہو جاتی ہیں۔ عوام حیران رہ جاتی ہے کہ کیا انتخابی مہم ایک سیاسی جنگ تھی یا صرف ایک ڈرامے کا پہلا سین؟ سوشل میڈیا پر بھی یہی سوالات گردش کر رہے ہیں اور لوگ روایتی سیاسی رویوں پر طنز کر رہے ہیں۔
کچھ جماعتیں دھاندلی کا الزام لگا رہی ہیں، کچھ بے ضابطگیوں کی نشاندہی کر رہی ہیں، اور کچھ فتح کے جشن منا رہی ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ شکایات بھی وہی کر رہے ہیں جو جیت رہے ہیں، اور شکایات بھی وہی کر رہے ہیں جو ہار رہے ہیں۔ ایسی صورتحال میں عام ووٹر سوچتا ہے کہ اگر سب کو اعتراض ہے تو آخر مطمئن کون ہے؟
8 جون کی شام تک تصویر مکمل نہیں ہوئی، لیکن ایک حقیقت ضرور واضح ہو چکی ہے: گلگت بلتستان کے عوام نے اپنا فیصلہ بیلٹ بکس میں ڈال دیا ہے، اب اصل امتحان ان لوگوں کا ہے جو ان ووٹوں کے نام پر اقتدار حاصل کریں گے۔ سوال صرف یہ نہیں کہ کون جیتا، اصل سوال یہ ہے کہ کیا عوام کے مسائل بھی کبھی جیتیں گے؟
کیونکہ گلگت بلتستان میں حکومتیں بدلنا خبر نہیں رہی، عوام کی زندگی بدلنا خبر بن چکا ہے۔
Comments
Post a Comment