مجھے اپنے پڑوس کا ایک لڑکا بچپن سے پسند تھا۔ جب میں پانچویں جماعت میں تھی، تب سے وہ مجھے بہت اچھا لگتا تھا۔ وہ میرے بھائی کا دوست تھا اور اکثر ہمارے گھر آتا جاتا تھا۔ میں خاموشی سے اسے دیکھا کرتی تھی، لیکن اس نے کبھی مجھے اس نظر سے نہیں دیکھا۔ شاید اسے کبھی اندازہ بھی نہ ہوا ہو کہ ایک چھوٹی سی لڑکی کے دل میں اس کے لیے کتنی جگہ بن چکی ہے۔
وقت گزرتا گیا۔ اگر وہ کسی اور لڑکی سے بات کرتا تو مجھے بےحد تکلیف ہوتی، لیکن میں نے کبھی اپنے جذبات ظاہر نہیں کیے۔ پھر وہ سکول چھوڑ کر چلا گیا اور میری زندگی بھی اپنی راہ پر چل پڑی۔
میرے لیے رشتے آنے لگے۔ ایک رشتہ طے ہوا، نکاح بھی ہو گیا، لیکن رخصتی نہ ہو سکی۔ اس دوران ہم جذباتی طور پر قریب آئے اور ایک غلطی ایسی ہوئی جس کا بوجھ آج تک میرے دل پر ہے۔ بعد میں وہ رشتہ ختم ہو گیا اور طلاق ہو گئی۔
کچھ عرصے بعد قسمت نے وہ موڑ لیا جس کا میں نے برسوں خواب دیکھا تھا۔ اسی لڑکے کی طرف سے میرے لیے رشتہ آ گیا۔ میری خوشی کی کوئی حد نہیں تھی۔ میں نے دوسرے تمام رشتے رد کر دیے اور اس رشتے کے لیے ہاں کر دی۔ وہ مالی طور پر بہت مضبوط نہیں تھا، لیکن خوددار تھا۔ شادی کے لیے آہستہ آہستہ تیاری کر رہا تھا، مہنگا لہنگا تک خرید لیا تھا۔ اس کی ہر بات سے لگتا تھا کہ وہ اس رشتے کو عزت اور محبت کے ساتھ نبھانا چاہتا ہے۔
پھر ایک رات اس نے میرے ماضی کے بارے میں پوچھا۔ میں نے سوچا کہ شادی کی بنیاد سچائی پر ہونی چاہیے، اس لیے میں نے سب کچھ سچ سچ بتا دیا۔
میرے سچ نے جیسے اس کی دنیا ہلا دی۔
کچھ لمحے خاموش رہنے کے بعد اس نے کال بند کر دی۔ اس رات اس کی طبیعت اتنی خراب ہوئی کہ اسے ہسپتال لے جانا پڑا۔ گھر والوں کے مطابق صورتحال بہت سنگین ہو گئی تھی۔ جب وہ واپس آیا تو کئی دن تک خود میں گم رہا، کسی سے بات نہیں کی، اور پھر اس نے میرے تمام رابطے بند کر دیے۔
اس کے بعد میری زندگی جیسے رک گئی۔ میں نے بہت کوشش کی، معافیاں مانگیں، اس کے گھر گئی، اس کی والدہ سے منتیں کیں، لیکن مجھے اس سے ملنے نہیں دیا گیا۔ میں دن رات روتی رہی، نیند ختم ہو گئی، ذہنی حالت بگڑ گئی، یہاں تک کہ خودکشی کی کوشش بھی کی۔
آخرکار ایک نئے نمبر سے رابطہ ہوا۔ اس نے میری بات سنی، لیکن ایک ہی بات بار بار کہی:
"میں آپ کی عزت کرتا ہوں، لیکن اس حقیقت کو قبول نہیں کر سکتا۔ میں جھوٹی امید نہیں دینا چاہتا۔"
میں نے ہر ممکن طریقے سے اسے منانے کی کوشش کی۔ یہاں تک کہ میں نے کہا کہ وہ کسی اور سے شادی کر لے، میں صرف اس کی زندگی میں کسی بھی حیثیت سے رہنا چاہتی ہوں۔ میں نے مالی مدد کی پیشکش بھی کی، لیکن اس نے سب کچھ ٹھکرا دیا۔
آج بھی وہ یہی کہتا ہے کہ مجھے اپنی زندگی جینے دو اور خود بھی جیو۔
لیکن مسئلہ یہ ہے کہ میں اب بھی برسوں کی محبت، خوابوں اور دعاؤں کے اس بوجھ سے باہر نہیں آ سکی۔ میں نے اسے تہجدوں میں مانگا تھا، اور آج بھی محسوس ہوتا ہے کہ اگر وہ میری زندگی سے مکمل طور پر چلا گیا تو شاید میرے اندر کچھ ہمیشہ کے لیے مر جائے گا۔
Comments
Post a Comment