Skip to main content

"تہجدوں میں مانگا ہوا شخص: جب سچ نے میری محبت چھین لی"

ایک نوجوان پردہ دار لڑکی رات کے وقت دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے بیٹھی ہے، اس کی آنکھوں میں آنسو ہیں جبکہ پس منظر میں ٹوٹے ہوئے خواب، محبت اور جدائی کی علامتی کیفیت نظر آ رہی ہے۔
میں 24 سال کی لڑکی ہوں۔ لوگ مجھے خوبصورت کہتے ہیں، میں پانچ وقت کی نماز پڑھتی ہوں اور پردے کا خاص خیال رکھتی ہوں۔ لیکن آج میری زندگی کا سب سے بڑا مسئلہ میرا دل ہے، جو برسوں سے صرف ایک ہی انسان کے نام پر دھڑکتا رہا ہے۔

مجھے اپنے پڑوس کا ایک لڑکا بچپن سے پسند تھا۔ جب میں پانچویں جماعت میں تھی، تب سے وہ مجھے بہت اچھا لگتا تھا۔ وہ میرے بھائی کا دوست تھا اور اکثر ہمارے گھر آتا جاتا تھا۔ میں خاموشی سے اسے دیکھا کرتی تھی، لیکن اس نے کبھی مجھے اس نظر سے نہیں دیکھا۔ شاید اسے کبھی اندازہ بھی نہ ہوا ہو کہ ایک چھوٹی سی لڑکی کے دل میں اس کے لیے کتنی جگہ بن چکی ہے۔

وقت گزرتا گیا۔ اگر وہ کسی اور لڑکی سے بات کرتا تو مجھے بےحد تکلیف ہوتی، لیکن میں نے کبھی اپنے جذبات ظاہر نہیں کیے۔ پھر وہ سکول چھوڑ کر چلا گیا اور میری زندگی بھی اپنی راہ پر چل پڑی۔

میرے لیے رشتے آنے لگے۔ ایک رشتہ طے ہوا، نکاح بھی ہو گیا، لیکن رخصتی نہ ہو سکی۔ اس دوران ہم جذباتی طور پر قریب آئے اور ایک غلطی ایسی ہوئی جس کا بوجھ آج تک میرے دل پر ہے۔ بعد میں وہ رشتہ ختم ہو گیا اور طلاق ہو گئی۔

کچھ عرصے بعد قسمت نے وہ موڑ لیا جس کا میں نے برسوں خواب دیکھا تھا۔ اسی لڑکے کی طرف سے میرے لیے رشتہ آ گیا۔ میری خوشی کی کوئی حد نہیں تھی۔ میں نے دوسرے تمام رشتے رد کر دیے اور اس رشتے کے لیے ہاں کر دی۔ وہ مالی طور پر بہت مضبوط نہیں تھا، لیکن خوددار تھا۔ شادی کے لیے آہستہ آہستہ تیاری کر رہا تھا، مہنگا لہنگا تک خرید لیا تھا۔ اس کی ہر بات سے لگتا تھا کہ وہ اس رشتے کو عزت اور محبت کے ساتھ نبھانا چاہتا ہے۔

پھر ایک رات اس نے میرے ماضی کے بارے میں پوچھا۔ میں نے سوچا کہ شادی کی بنیاد سچائی پر ہونی چاہیے، اس لیے میں نے سب کچھ سچ سچ بتا دیا۔

میرے سچ نے جیسے اس کی دنیا ہلا دی۔

کچھ لمحے خاموش رہنے کے بعد اس نے کال بند کر دی۔ اس رات اس کی طبیعت اتنی خراب ہوئی کہ اسے ہسپتال لے جانا پڑا۔ گھر والوں کے مطابق صورتحال بہت سنگین ہو گئی تھی۔ جب وہ واپس آیا تو کئی دن تک خود میں گم رہا، کسی سے بات نہیں کی، اور پھر اس نے میرے تمام رابطے بند کر دیے۔

اس کے بعد میری زندگی جیسے رک گئی۔ میں نے بہت کوشش کی، معافیاں مانگیں، اس کے گھر گئی، اس کی والدہ سے منتیں کیں، لیکن مجھے اس سے ملنے نہیں دیا گیا۔ میں دن رات روتی رہی، نیند ختم ہو گئی، ذہنی حالت بگڑ گئی، یہاں تک کہ خودکشی کی کوشش بھی کی۔

آخرکار ایک نئے نمبر سے رابطہ ہوا۔ اس نے میری بات سنی، لیکن ایک ہی بات بار بار کہی:

"میں آپ کی عزت کرتا ہوں، لیکن اس حقیقت کو قبول نہیں کر سکتا۔ میں جھوٹی امید نہیں دینا چاہتا۔"

میں نے ہر ممکن طریقے سے اسے منانے کی کوشش کی۔ یہاں تک کہ میں نے کہا کہ وہ کسی اور سے شادی کر لے، میں صرف اس کی زندگی میں کسی بھی حیثیت سے رہنا چاہتی ہوں۔ میں نے مالی مدد کی پیشکش بھی کی، لیکن اس نے سب کچھ ٹھکرا دیا۔

آج بھی وہ یہی کہتا ہے کہ مجھے اپنی زندگی جینے دو اور خود بھی جیو۔

لیکن مسئلہ یہ ہے کہ میں اب بھی برسوں کی محبت، خوابوں اور دعاؤں کے اس بوجھ سے باہر نہیں آ سکی۔ میں نے اسے تہجدوں میں مانگا تھا، اور آج بھی محسوس ہوتا ہے کہ اگر وہ میری زندگی سے مکمل طور پر چلا گیا تو شاید میرے اندر کچھ ہمیشہ کے لیے مر جائے گا۔


Comments

Popular posts from this blog

چند سوالات

  چند سوالات بات بہت سادہ ہے ، تین چار چھوٹے چھوٹے سوالات ہیں، اپنے آپ سے پوچھئیے ، جواب مل جائے گا۔ کیا ہر جگہ، موقعہ اور تقریب کے حساب سے ڈریسنگ نہیں کی جاتی ؟گھر میں روزمرہ استعمال،دفتر کا رسمی ڈریس، کسی مذہبی تقریب جیسے میلاد میں شرکت، تعزیتی تقریب، شادی کے فنکشن اور کسی ہائی پروفائل کوریج والی تقریب می شرکت کے لئے الگ نوعیت کا لباس پہنا جاتا ہے یا پہنا جانا چاہیے ؟ کیا مرد ہوں یا خواتین، دونوں کو مناسب ، ساتر ، ڈیسنٹ لباس نہیں پہننا چاہیے؟یا کسی معروف شخصیت ، ٹی وی سیلبریٹی کو، پبلک تقریب میں نامناسب، فضول، ولگر لکنگ ڈریس پہننا چاہیے ؟ کیا ایسا کرنے پر وہ حرف تنقید سے بالاتر ہوگئی ، اسے تقدس حاصل ہے کہ وہ عورت کارڈ کی چھتری تلے موجود ہے ؟ کیا آج کے دور میں جب سوشل میڈیا انتہائی ایکٹو ہے، ہمارے سامنے کچھ غلط ہوتا تو ہم اس پر کمنٹ نہیں کرتے ؟ کیا ہم پبلک پوسٹ کر کے تنقید نہیں کرتے ؟کیا یہ خلاف معمول، غلط ، غیر فطری اور نامناسب ہے ؟ اس سب کچھ کو سامنے رکھتے ہوئے اینکر غریدہ فاروقی کے نہایت نامناسب، ناموزوں لباس پر تنقید بالکل درست، مناسب اور جائز ہے۔ غریدہ فاروقی ایک پبل...

شادی شدہ بیٹی اور پردیس میں گیا بیٹا

  شادی شدہ بیٹی اور پردیس میں گیا بیٹا دونوں زندگی کے ایسے مرحلے میں ہوتے ہیں جہاں بظاہر وہ بڑے ہو چکے ہوتے ہیں، ذمہ داریاں سنبھال لیتے ہیں، مگر اندر سے وہ اب بھی اپنے گھر کے ساتھ جڑے ہوتے ہیں، ان کے دل میں ایک ایسی نرمی اور حساسیت ہوتی ہے جو ہر عام انسان کو نظر نہیں آتی، جب گھر سے کوئی غیر متوقع کال آتی ہے تو دل ایک لمحے کے لیے رک سا جاتا ہے، ذہن فوراً ہر ممکن خیال کی طرف چلا جاتا ہے، کیونکہ فاصلہ صرف جسم کا نہیں ہوتا بلکہ احساس کا بھی ہوتا ہے، شادی شدہ بیٹی اپنے نئے گھر میں ہوتے ہوئے بھی اکثر اپنے والدین کی فکر میں رہتی ہے، اسے ہر وقت یہ خیال ہوتا ہے کہ گھر والے کیسے ہیں، سب ٹھیک تو ہے یا نہیں، اور اسی طرح پردیس میں بیٹھا بیٹا بھی ہر وقت اپنے گھر کی خبر کا منتظر رہتا ہے، کیونکہ دوری انسان کو زیادہ حساس بنا دیتی ہے، یہ دونوں اپنی اپنی جگہ مضبوط نظر آتے ہیں مگر حقیقت میں ان کے دل بہت نرم ہوتے ہیں، وہ اپنے جذبات کو ظاہر نہیں کرتے مگر ہر لمحہ اندر ہی اندر اپنے گھر کے ساتھ جڑے رہتے ہیں، ان کے لیے ایک عام سی کال بھی بہت بڑی کیفیت لے آتی ہے، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ گھر سے آنے والی ہر آوا...

مومنا اقبال اور PML-N ایم پی اے کیس ایک تعلق، الزامات اور قانونی جنگ کی مکمل کہانی

کچھ کہانیاں صرف خبریں نہیں ہوتیں بلکہ وقت کے ساتھ ایک ایسے کیس میں بدل جاتی ہیں جہاں ہر فریق اپنے سچ کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے۔ پاکستانی اداکارہ مومنا اقبال اور پنجاب اسمبلی کے رکن ساقب چندھڑ (PML-N ایم پی اے) کا معاملہ اس وقت میڈیا اور سوشل میڈیا پر زیر بحث ہے۔ رپورٹس کے مطابق یہ معاملہ اچانک شروع نہیں ہوا بلکہ اس کی جڑیں مبینہ طور پر 2020–2021 کے دوران کے تعلقات سے جڑی ہوئی ہیں۔ دونوں کے درمیان قریبی رابطہ رہا، ذاتی گفتگو اور تعلقات کا ذکر سامنے آیا، اور بعد میں شادی سے متعلق بات چیت بھی رپورٹ کی گئی۔ وقت کے ساتھ یہی تعلق ایک بڑے تنازع میں تبدیل ہو گیا۔ مومنا اقبال کی جانب سے الزامات میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ انہیں مسلسل آن لائن ہراسانی کا سامنا رہا، واٹس ایپ اور کالز کے ذریعے دھمکیاں دی گئیں، ذہنی دباؤ اور بلیک میلنگ کی کوشش کی گئی، اور ان کی فیملی کو بھی مبینہ طور پر نشانہ بنایا گیا۔ ان کے مطابق یہ صورتحال اس وقت زیادہ سنگین ہوئی جب تعلق ختم ہوا اور شادی سے انکار کیا گیا۔ اسی بنیاد پر انہوں نے معاملہ پولیس اور NCCIA تک پہنچایا۔ دوسری جانب ملزم فریق کا مؤقف ہے کہ دونوں کے درمیان طویل عر...