Skip to main content
  چند سوالات بات بہت سادہ ہے ، تین چار چھوٹے چھوٹے سوالات ہیں، اپنے آپ سے پوچھئیے ، جواب مل جائے گا۔ کیا ہر جگہ، موقعہ اور تقریب کے حساب سے ڈریسنگ نہیں کی جاتی ؟ گھر میں روزمرہ استعمال،دفتر کا رسمی ڈریس، کسی مذہبی تقریب جیسے میلاد میں شرکت، تعزیتی تقریب، شادی کے فنکشن اور کسی ہائی پروفائل کوریج والی تقریب می شرکت کے لئے الگ نوعیت کا لباس پہنا جاتا ہے یا پہنا جانا چاہیے ؟ کیا مرد ہوں یا خواتین، دونوں کو مناسب ، ساتر ، ڈیسنٹ لباس نہیں پہننا چاہیے؟ کیا کسی معروف شخصیت ، ٹی وی سیلبریٹی کو، پبلک تقریب میں نامناسب، فضول، ولگر لکنگ ڈریس پہننا چاہیے ؟ کیا ایسا کرنے پر وہ حرف تنقید سے بالاتر ہوگئی ، اسے تقدس حاصل ہے کہ وہ عورت کارڈ کی چھتری تلے موجود ہے ؟ کیا آج کے دور میں جب سوشل میڈیا انتہائی ایکٹو ہے، ہمارے سامنے کچھ غلط ہوتا تو ہم اس پر کمنٹ نہیں کرتے ؟ کیا ہم پبلک پوسٹ کر کے تنقید نہیں کرتے ؟کیا یہ خلاف معمول، غلط ، غیر فطری اور نامناسب ہے ؟ اس سب کچھ کو سامنے رکھتے ہوئے اینکر غریدہ فاروقی کے نہایت نامناسب، ناموزوں لباس پر تنقید بالکل درست، مناسب اور جائز ہے۔ غریدہ فاروقی ای...

 


Comments

Popular posts from this blog

  چند سوالات بات بہت سادہ ہے ، تین چار چھوٹے چھوٹے سوالات ہیں، اپنے آپ سے پوچھئیے ، جواب مل جائے گا۔ کیا ہر جگہ، موقعہ اور تقریب کے حساب سے ڈریسنگ نہیں کی جاتی ؟ گھر میں روزمرہ استعمال،دفتر کا رسمی ڈریس، کسی مذہبی تقریب جیسے میلاد میں شرکت، تعزیتی تقریب، شادی کے فنکشن اور کسی ہائی پروفائل کوریج والی تقریب می شرکت کے لئے الگ نوعیت کا لباس پہنا جاتا ہے یا پہنا جانا چاہیے ؟ کیا مرد ہوں یا خواتین، دونوں کو مناسب ، ساتر ، ڈیسنٹ لباس نہیں پہننا چاہیے؟ کیا کسی معروف شخصیت ، ٹی وی سیلبریٹی کو، پبلک تقریب میں نامناسب، فضول، ولگر لکنگ ڈریس پہننا چاہیے ؟ کیا ایسا کرنے پر وہ حرف تنقید سے بالاتر ہوگئی ، اسے تقدس حاصل ہے کہ وہ عورت کارڈ کی چھتری تلے موجود ہے ؟ کیا آج کے دور میں جب سوشل میڈیا انتہائی ایکٹو ہے، ہمارے سامنے کچھ غلط ہوتا تو ہم اس پر کمنٹ نہیں کرتے ؟ کیا ہم پبلک پوسٹ کر کے تنقید نہیں کرتے ؟کیا یہ خلاف معمول، غلط ، غیر فطری اور نامناسب ہے ؟ اس سب کچھ کو سامنے رکھتے ہوئے اینکر غریدہ فاروقی کے نہایت نامناسب، ناموزوں لباس پر تنقید بالکل درست، مناسب اور جائز ہے۔ غریدہ فاروقی ای...

شادی شدہ بیٹی اور پردیس میں گیا بیٹا

  شادی شدہ بیٹی اور پردیس میں گیا بیٹا دونوں زندگی کے ایسے مرحلے میں ہوتے ہیں جہاں بظاہر وہ بڑے ہو چکے ہوتے ہیں، ذمہ داریاں سنبھال لیتے ہیں، مگر اندر سے وہ اب بھی اپنے گھر کے ساتھ جڑے ہوتے ہیں، ان کے دل میں ایک ایسی نرمی اور حساسیت ہوتی ہے جو ہر عام انسان کو نظر نہیں آتی، جب گھر سے کوئی غیر متوقع کال آتی ہے تو دل ایک لمحے کے لیے رک سا جاتا ہے، ذہن فوراً ہر ممکن خیال کی طرف چلا جاتا ہے، کیونکہ فاصلہ صرف جسم کا نہیں ہوتا بلکہ احساس کا بھی ہوتا ہے، شادی شدہ بیٹی اپنے نئے گھر میں ہوتے ہوئے بھی اکثر اپنے والدین کی فکر میں رہتی ہے، اسے ہر وقت یہ خیال ہوتا ہے کہ گھر والے کیسے ہیں، سب ٹھیک تو ہے یا نہیں، اور اسی طرح پردیس میں بیٹھا بیٹا بھی ہر وقت اپنے گھر کی خبر کا منتظر رہتا ہے، کیونکہ دوری انسان کو زیادہ حساس بنا دیتی ہے، یہ دونوں اپنی اپنی جگہ مضبوط نظر آتے ہیں مگر حقیقت میں ان کے دل بہت نرم ہوتے ہیں، وہ اپنے جذبات کو ظاہر نہیں کرتے مگر ہر لمحہ اندر ہی اندر اپنے گھر کے ساتھ جڑے رہتے ہیں، ان کے لیے ایک عام سی کال بھی بہت بڑی کیفیت لے آتی ہے، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ گھر سے آنے والی ہر آوا...
 HI hOW ARE yOU